روس کا سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف امریکی قرارداد کی مخالفت

نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل مندوب نے ایران کے خلاف امریکا کی مجوزہ قرارداد کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک اور کوشش قرار دے دیا۔ یہ بیان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خلیج فارس کی بحری سلامتی سے متعلق اجلاس کے دوران سامنے آیا۔

روسی مندوب ویسلی نیبینزیا نے واضح کیا کہ ماسکو کسی ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جو صرف ایران کو نشانہ بنائے اور خطے میں جاری بحران کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف یک طرفہ بیانیہ مسلط کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے، جب تک بحران کی اصل وجوہات اور محرکات کو مدنظر نہ رکھا جائے۔

ویسلی نیبینزیا نے خبردار کیا کہ متعصبانہ قراردادوں کی منظوری مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق خلیج فارس میں بحری سلامتی صرف یک طرفہ مذمت یا اشتعال انگیز اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے جاری تنازعات کا خاتمہ اور فوجی کارروائیوں کو روکنا ضروری ہے۔

روسی مندوب نے سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور تصادم پر مبنی قراردادیں پیش نہ کریں۔

واضح رہے کہ امریکا نے بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت سے یہ قرارداد پیش کی تھی، جس میں ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اور ٹول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے