واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے تاریخی اضافے نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں 63 فیصد امریکیوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار براہِ راست صدر ٹرمپ کو ٹھہرا دیا ہے۔ این آر پی، پی بی ایس نیوز اور مارسٹ پول (Marist poll) کے حالیہ سروے کے مطابق، 10 میں سے 8 امریکی پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور اپنے گھریلو بجٹ میں غیر معمولی تنگی محسوس کر رہے ہیں۔
سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 81 فیصد امریکی اس وقت مہنگائی کے باعث مالی دباؤ میں ہیں، جبکہ صرف 19 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ انہیں ان قیمتوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اپریل کے آخری ایام میں کیے گئے اس سروے میں اکثریت نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو اس بحران کی وجہ قرار دیا، جبکہ 37 فیصد افراد نے انہیں کم ذمہ دار سمجھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں گیسولین کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، جہاں جمعرات کے روز قیمت 4 ڈالر 56 سینٹ فی گیلن ریکارڈ کی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کے ساتھ جنگی صورتحال پیدا ہونے سے قبل یہ قیمت محض 2 ڈالر 98 سینٹ فی گیلن تھی۔ قیمتوں میں اس تیزی سے اضافے نے امریکی عوام کے معاشی تحفظ کو شدید متاثر کیا ہے، جس کا عکس حالیہ عوامی جائزوں میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔