قربانی سے پہلے عوام کی قربانی
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰیٰ بڈانی
عیدالاضحیٰ سے چند ہفتے پہلے ہی پاکستانی عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہوتے ہی پٹرولیم مصنوعات پر بم گرا دیا گیا۔ پٹرول کی قیمت میں 15 روپے کا اضافہ کر کے اسے 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا، جبکہ ڈیزل بھی تقریباً اسی حد تک پہنچ گیا۔ یہ ہوشربا اضافہ محض ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑنے والا معاشی قتل عام ہے۔
گلیوں، بازاروں، بسوں اور رکشوں میں ایک ہی آواز گونج رہی ہے کہ شیر پٹرول پیتا ہے مگر عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ ن لیگ کی حکومت کے اس فیصلے نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ حکومت واقعی ان کے ووٹوں سے بنی ہے؟ اگر عوام کے حقیقی نمائندے اقتدار میں ہوتے تو کیا وہ اپنے ووٹرز کو مہنگائی کے اس سونامی میں دھکیلتے؟
ایک بار پھر سوشل میڈیا، میڈیا اور عوامی حلقوں میں فارم 47 کا شور بلند ہو رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ منتخب حکومت ہوتی تو شاید عوام کی حالت پر کچھ غور کیا جاتا۔ مگر موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ حکومت بیرونی اداروں اور چند مخصوص مفادات کی غلام ہے، عام پاکستانی کی نہیں۔
عوام کا سب سے جائز سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والا یہ قرض آخر کس کے لیے لیا گیا؟ کیا عام پاکستانی نے کبھی کرپشن کی؟ کیا اسے بھاری سبسڈی ملی؟ کیا اس کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی آئی؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرضے بیرونی ادائیگیوں کے بحران سے بچنے، زرمبادلہ ذخائر بڑھانے اور ڈیفالٹ سے بچاؤ کے لیے لیے جاتے ہیں۔ مگر جب یہ پیسہ ملک میں آتا ہے تو اس کا بڑا حصہ کرپشن، غیر ضروری پروجیکٹس، اشرافیہ کی عیاشی اور سیاسی لالچ میں ضائع ہو جاتا ہے۔ عام آدمی کو نہ نوکری ملتی ہے، نہ صحت کی سہولت، نہ تعلیم کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ الٹا اسی عوام سے ٹیکسوں اور قیمتوں کی شکل میں واپسی کا بوجھ لیا جاتا ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ لامتناہی سبسڈی خزانے پر بوجھ ہے، بالکل درست۔ مگر سوال یہ ہے کہ خزانے کا بوجھ کیوں صرف غریب کی گردن پر رکھا جا رہا ہے؟ صوبائی حکومتوں میں سیلیکٹڈ اور منتخب لوگوں کو پٹرول الاؤنسز کی مد میں ہزاروں روپے مل رہے ہیں۔ ایک شخص کو 2000 روپے ماہانہ الاؤنس اس اضافے کا مداوا کر سکتا ہے؟ عام شہری جو روزانہ پٹرول خرید کر گاڑی چلاتا ہے، رکشہ والا، ٹرانسپورٹر، کسان ,ان کی حالت کیا ہو گی؟
پٹرول کی قیمت بڑھنے کا اثر زنجیر کی طرح پوری معیشت پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے، سبزی، پھل، دودھ، انڈے، آٹا اور سب کچھ مہنگا ہو گیا۔ غریب گھرانوں کا ماہانہ بجٹ متاثر ہوا، متوسط طبقہ مزید تنگ ہوچکا ہے، اور اشرافیہ اپنی ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر اصلاحات کی بات کر رہی ہے۔ یہ مہنگائی کا طوفان صرف پٹرول تک محدود نہیں۔ بجلی، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بڑھ رہی ہیں۔ عوام پوچھ رہی ہے کہ ہم کب تک قربانی کا بکرا بنتے رہیں گے؟
ن لیگ سمیت کوئی بھی حکومت ہو، طویل مدتی اصلاحات سے گریز کر کے صرف عارضی قرضوں پر انحصار کراکے قوم کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ کرپشن پر قابو، ٹیکس بیس کی توسیع، غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی، مقامی وسائل یعنی کوئلہ، معدنیات اور زراعت کی بہتر استعمال اور برآمدات میں اضافہ یہ حقیقی حل ہیں۔ مگر ان حل کی بجائے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ صرف غریبوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام بنایا جائے۔ اشرافیہ اور طاقت کے مراکز کو پٹرول الاؤنسز کی بجائے احتساب کا سامنا کرنا چاہیے۔ سیاسی استحکام اور پالیسی تسلسل کے بغیر کوئی معاشی معجزہ نہیں ہو سکتا۔
عوام کا غصہ جائز ہے۔ جذبات میں فیصلے غلط ہو سکتے ہیں، مگر یہ حکومتوں کے لیے وارننگ ہے۔ آئی ایم ایف قرض عارضی سانس ہے، اصل علاج تو اندرونی اصلاحات، شفافیت اور عوامی فلاح ہے۔ قربانی سے پہلے عوام کی قربانی—یہ تاریخ کا المیہ ہے۔ اگر حکمرانوں نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو یہ طوفان بار بار آئے گا اور صرف عوام ہی اس کا شکار ہوتا رہے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں نعروں اور الزام تراشی سے آگے نکل کر قابل عمل حل پیش کریں۔ ورنہ عوام کا صبر بھی ایک دن جواب دے دے گا۔
