کاغذ پر بنائی گئی جنت جتنی بھی دلکش ہو

کاغذی جنت
تحریر ۔ سید نذیر شاہ
کسی بھی ملک کے ارباب اختیار جب زمینی حقائق سے آنکھیں چرا کر کاغذی اعداد و شمار کو ہی اصل سچائی مان لیتے ہیں تو وہاں ترقی کا سفر فائلوں کی الماریوں میں ہی دم توڑ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں کاغذ سے کوئی عام محبت نہیں بلکہ ایک عجیب عقیدت ہے جہاں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ملک کے کسی بڑے سے بڑے بحران کا حل اگر فائل پر لکھ کر ایک سرکاری مہر لگا دی جائے تو وہ زمین پر خود بخود نافذ ہو جائے گا۔ مغربی دانشور اسی طرز عمل کو ڈی جیورے اور ڈی فیکٹو کا نام دیتے ہیں جسے اگر ہم اپنی آسان زبان میں سمجھنا چاہیں تو یہ محض کاغذی بات اور زمینی حقیقت کا کھلا فرق ہے۔ اسی کاغذی سحر کا نتیجہ ہے کہ آج ایک ہی جغرافیے میں دو بالکل مختلف دنیائیں آباد ہو چکی ہیں ایک وہ منظم اور مہذب پاکستان جو حکمران اشرافیہ کی فائلوں رنگین پریزنٹیشنوں اور بجٹ تقریروں میں مسکراتا ہے اور دوسرا وہ مجبور پاکستان جو انہی فائلوں کے سائے تلے فٹ پاتھوں پر پسینے میں شرابور دھکے کھا رہا ہے۔

پاکستان میں سرکاری دفتر کا دروازہ کھلتے ہی عام آدمی کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے کیونکہ اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اندر بیٹھا افسر اس کا کام آسان کرے گا یا اسے دن بھر دھکے کھلائے گا۔ یہاں صبح ہوتے ہی شہری کا واسطہ قانون سے نہیں بلکہ ٹریفک کے بے لگام مزاج سے پڑتا ہے۔ بجلی کے بل میں ریلیف کا اعلان ٹی وی پر ہوتا ہے مگر بل کے یونٹ کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ آٹے دال اور پھلوں کی قیمت نوٹیفیکیشن سے نہیں بلکہ دکاندار کے موڈ اور منافع سے طے ہوتی ہے اور سرکاری ریٹ لسٹیں محض دیوار کی زینت بنی رہتی ہیں۔ بجٹ کے اعداد و شمار ہوں سڑکیں ہوں پل ہوں سیوریج ہو یا پینے کا صاف پانی ہر چیز کاغذ پر بہت خوشنما لگتی ہے مگر زمین پر قدم رکھتے ہی یہ جادوئی طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ بہترین سیوریج سسٹم ابلتے نالوں میں بدل جاتا ہے پینے کا صاف پانی نایاب ہو جاتا ہے اور فائل میں سڑکیں اور پل پہلی ہی بارش میں بہہ جاتے ہیں۔ یہ کاغذی خوش فہمی اور زمینی تلخ حقیقت کی وہ خلیج ہے جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

اس کاغذی نظام کے شاہکار ہمارے اداروں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سکول کا رجسٹر حاضری اور شاندار نتائج کی گواہی دے گا مگر حقیقت میں اساتذہ پرائیویٹ اکیڈمیوں کے ایجنٹ بنے نظر آئیں گے۔ ہسپتال کی رپورٹ کہے گی کہ تمام ادویات میسر ہیں لیکن غریب مریض ایک سرنج اور بنیادی ٹیسٹ بھی اپنی جیب سے خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ہمارا قانون بھی کتاب میں شیر کی طرح دہاڑتا ہے مگر سڑک پر آتے ہی بھیگی بلی بن جاتا ہے۔ یہ کمزور کے سامنے غراتا ہے اور طاقتور کے سامنے دم ہلانے لگتا ہے۔ حکمران پورے طمطراق سے دعویٰ کرتے ہیں کہ قانون بلاامتیاز اپنا راستہ خود بنا رہا ہے مگر حیرت ہے کہ یہ راستہ ہمیشہ عام گلیوں کو چھوڑ کر صرف وی آئی پی لین سے ہی کیوں گزرتا ہے۔

حکمرانوں کا بیانیہ ہمیشہ اسی سحر انگیز کاغذی دنیا سے جنم لیتا ہے، جہاں ملک مسلسل ‘درست سمت’ میں گامزن دکھائی دیتا ہے اور ہر ناکامی کا ملبہ پچھلی حکومت کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس اور غریب کو فوری ریلیف کی فراہمی جیسے خوشنما دعوے ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں تیار شدہ رنگین رپورٹوں کو سامنے رکھ کر تراشے جاتے ہیں۔ ہمیں کاغذ کی بے جان تحریر کو جیتی جاگتی حقیقت سمجھنے کی ایسی مہلک لت لگ چکی ہے کہ ہر نیا بحران جنم لیتے ہی ایک نئی کمیٹی تشکیل پاتی ہے، جو اپنی پہلی رپورٹ میں سفارش کرتی ہے کہ ایک ذیلی کمیٹی بنائی جائے سفارشات کی برسات ہوتی ہے اور کاغذی رپورٹیں مرتب کی جاتی ہیں مگر مسئلہ ایک انچ بھی حل ہوئے بغیر اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور پسِ پردہ صرف اس کی فائل پہلے سے کہیں زیادہ موٹی ہو جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ بحران وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ زمینی حقائق سے دانستہ فرار کا نتیجہ ہے، جہاں بوسیدہ دیوار کی گہری دراڑیں بھرنے کے بجائے، اس پر لٹکی تصویر پر نیا فریم چڑھا دیتے ہیں۔

اگر ہم آئین پاکستان کو کھولیں تو یہ تضاد اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 3 استحصال کے خاتمے اور منصفانہ معاوضے کا وعدہ کرتا ہے۔ آئین بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم اور سستے انصاف اور خواتین اور بچوں کے تحفظ اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی جیسی خوبصورت باتیں کرتا ہے۔ یہ سب پڑھ کر دل خوش ہو جاتا ہے مگر جب ان سنہرے الفاظ کو گلی محلے کی زندگی سے ملا کر دیکھیں تو فرق صاف نظر آ جاتا ہے۔ آئین میں مزدور کی عزت لکھی ہے مگر وہ کم اجرت پر خطرناک کام کرنے پر مجبور ہے اور لاکھوں بچے سکول سے باہر ہیں جبکہ عام آدمی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ایک مہنگی لڑائی بن چکا ہے۔ ریاستیں محض نوٹیفیکیشنز سے نہیں چلتیں بلکہ ان کی اصل پہچان کاغذ اور زمین کے بیچ کا فاصلہ ہوتا ہے۔

اگر پاکستان کی بیوروکریسی کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور کارکردگی پر مبنی ترقی کے نظام سے جوڑ دیا جائے، تو شاید عام شہری اور افسر کے درمیان قائم اعتماد کا وہ تاریخی خلا پُر ہو سکے جو آج بھی موجود ہے۔ لیکن تمام تر اصلاحات کے باوجود بات بہرحال وہیں آ کر رکتی ہے جہاں سے عام آدمی کے مسائل کا آغاز ہوتا ہے یعنی تھانے کچہری کی دہلیز، ہسپتال کا وارڈ، پٹوار خانے اورسرکاری دفتر کی کھڑکی۔ اصلاحات کا حقیقی امتحان ایئر کنڈیشنڈ کمروں اور کمیٹیوں کے اجلاسوں میں نہیں، بلکہ انہی جگہوں پر ہوتا ہے جہاں ایک عام پاکستانی ہر روز اپنے قانونی اور انسانی حق کے لیے جنگ لڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک نظام کے ان نچلے مراکز پر عملی تبدیلی نظر نہیں آئے گی، تب تک ٹیکنالوجی اور کارکردگی کا ہر دعویٰ محض ایک اور کاغذی سراب ہی رہے گا۔

آغاز کسی نئے قانون، آرڈیننس یا نمائشی کمیٹی سے ہرگز نہیں ہوگا بلکہ اس کا سنگِ بنیاد اس دن رکھا جائے گا جس دن اصحابِ حل و عقد یہ حقیقت تسلیم کر لیں گے کہ فائلوں میں بند اور سڑکوں پر بکھرا پاکستان دو الگ دنیائیں نہیں ہو سکتیں حقیقی تبدیلی کا پہلا قدم تب اٹھے گا جب اربابِ اختیار کاغذ پر بنے خوبصورت خوابوں کے سحر سے باہر نکل کر تلخ زمینی سچائیوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ کریں گے۔ ورنہ بیوروکریسی کاغذی جہاز اڑاتی رہے گی اور عوام سڑکوں پر یونہی دھکے کھاتے رہیں گے۔ اگلی بار جب کوئی سرکاری رپورٹ سب کچھ ٹھیک ہونے کا تاثر دے، تو ذرا اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر ضرور جھانک لیجیے گا، کیونکہ سڑک ہمیشہ کسی بھی فائل سے زیادہ سچ بولتی ہے۔ کاغذ پر بنائی گئی جنت جتنی بھی دلکش ہو، حساب بہرحال اسی زمینی جہنم کا دینا پڑتا ہے جس میں عام آدمی روز مرتا اور جیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے