لندن/سنگاپور (کیو این این ورلڈ) ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی امیدوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ایشیائی تجارتی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر ہی تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھنے میں آیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5.1 فیصد کمی کے بعد 98.22 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 5.2 فیصد کمی کے ساتھ 91.57 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرینِ معیشت اور توانائی مارکیٹ سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا سمجھوتہ طے پا جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں اضافے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھ گئے تھے، تاہم اب ممکنہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے خدشات کسی حد تک کم کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی فوری معاہدے کے امکانات زیادہ روشن نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں جلد بازی سے کام نہ لیا جائے اور تمام معاملات کو احتیاط سے آگے بڑھایا جائے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی تیل مارکیٹ آئندہ چند روز میں ایران امریکا تعلقات، اوپیک پلس پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کے اثرات کے تحت اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر سفارتی پیش رفت مثبت رہی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جبکہ کشیدگی دوبارہ بڑھنے کی صورت میں مارکیٹ میں تیزی واپس آنے کا امکان بھی موجود ہے۔