ننکانہ صاحب ویسٹ مینجمنٹ میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

ننکانہ صاحب ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف احسان اللہ ایاز) فیصل آباد کے بعد اب ضلع ننکانہ صاحب میں بھی لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا ایک بہت بڑا اور سنسنی خیز مالیاتی اسکینڈل سامنے آنے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے، جہاں مبینہ اربوں روپے کی بے ضابطگیوں، ٹھکیداری نظام کی آڑ میں اندھیر نگری اور غریب مزدوروں کے حقوق پر ڈاکے نے پورے محکمے کی شفافیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ معتبر ترین ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر فیصل آباد کی طرح یہاں بھی اعلیٰ سطحی آڈٹ کروایا جائے تو پنجاب کی تاریخ کا ایک اور بڑا کرپشن اسکینڈل اور مافیا بے نقاب ہو سکتا ہے، جس نے ٹھکیداری نظام کی آڑ میں پورے محکمانہ امور، میرٹ اور سرکاری فنڈز کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

اس مبینہ لوٹ مار اور ناانصافی کے خلاف لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ننکانہ صاحب کے ڈرائیورز نے اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر سڑکوں پر آ کر شدید احتجاج کیا اور محکمے کے اعلیٰ افسران و ٹھکیداروں کے خلاف جم کر نعرے بازی کی، جس سے شہر کی فضا گونج اٹھی۔ مظاہرین کا الزم ہے کہ موجودہ ہوش ربا مہنگائی کے دور میں جب غریب کا جینا محال ہو چکا ہے، انہیں صرف اور صرف 25 ہزار روپے ماہانہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر تنخواہ دی جا رہی ہے، جو کہ مروجہ لیبر قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مظاہرے کے دوران غریب محنت کشوں نے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے کہا کہ وہ سخت ترین اور جان لیوا موسمی حالات، تعفن، بدبو اور خطرناک ماحول میں دن رات شہر کا گند اٹھاتے ہیں اور اپنی زندگیاں داؤ پر لگائے ہوئے ہیں، لیکن محکمے کا افسر شاہی اور ٹھکیداری نظام مل کر ان کے خون پسینے کی کمائی ہڑپ کر رہا ہے۔ مظاہرین کے مطابق ٹھکیداری نظام نے نہ صرف مزدوروں کے بنیادی حقوق پامال کیے ہیں بلکہ میرٹ اور شفافیت کی دھجیاں اڑا کر محکمے کو اندھیر نگری میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔

ملازمین اور معتبر ذرائع نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری اور سخت ترین نوٹس لیں اور محکمے کے مالی و انتظامی معاملات کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم تنخواہوں کے نام پر ہونے والے اس بڑے استحصال اور ٹھکیداری نظام کے پردے میں چھپی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر کے ذمہ دار مافیا کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے تاکہ غریب محنت کشوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ ڈرائیورز نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ ہوا اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ پہیہ جام ہڑتال کریں گے اور احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک وسیع کر دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے