ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز) واسا کے سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی نے ننکانہ صاحب میں شہری زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں گندا پانی سڑکوں اور گلیوں میں جمع ہو کر نہ صرف آمد و رفت میں مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات جنم لے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں سیوریج کا نظام انتہائی فرسودہ ہو چکا ہے۔ دہائیوں پرانی نکاسی آب کی لائنیں موجودہ بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا قیام بغیر مناسب منصوبہ بندی کے کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مین سیوریج لائنوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق واسا کو مشینری اور وسائل کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ متعدد علاقوں میں ڈسپوزل پمپس خراب پڑے ہیں یا بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث مؤثر انداز میں کام نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں سیوریج کا پانی گلیوں میں جمع ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص سیوریج سسٹم صرف بدبو اور تعفن تک محدود نہیں بلکہ یہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن رہا ہے۔ گندا پانی کھڑا رہنے سے مچھروں اور مکھیوں کی افزائش ہوتی ہے، جس سے ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں تیزی سے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر سیوریج لائنوں اور پینے کے پانی کی پائپ لائنوں کے قریب ہونے کی وجہ سے لیکیج کے دوران آلودہ پانی صاف پانی میں شامل ہو کر اسے مضر صحت بنا دیتا ہے۔
مون سون کے دوران صورتحال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے، جہاں معمولی بارش کے بعد بھی شہر کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ اس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں، جو کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیوریج کے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئی اور کشادہ سیوریج لائنوں کی تنصیب، جدید سکشن اور جیٹنگ مشینوں کا استعمال، اور نظام کی باقاعدہ دیکھ بھال ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ شہری کچرا اور پلاسٹک بیگز نالوں میں پھینکنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ لائنوں کی بندش کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مسئلے کا مستقل حل صرف وقتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی پالیسی، بجٹ کے مؤثر استعمال اور متعلقہ حکام کی جوابدہی کو یقینی بنانا ہوگا، بصورت دیگر شہریوں کو اس اذیت ناک صورتحال کا سامنا بدستور رہے گا۔