آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟
تحریر: ظفر اقبال ظفر
انسان کیا سے کیا بننے کی کوشش میں پریشان حال ہے۔ یہ پریشان حالی ختم کیوں نہیں کر دیتے اس سوچ کے ساتھ کہ اپنے آپ کو ایسے نمونے میں ڈھالنے کی کوشش چھوڑ ہی دی جائے جس کے لیے آپ بنے ہی نہیں۔ اور اگر کسی مصنوعی ڈھانچے میں ڈال بھی لیا تو کیا کوئی یہ نہیں جان پائے گا کہ آپ وہ ہیں نہیں جو بننے کی اداکاری کر رہے ہیں۔ اداکاری کی بجائے کردار سازی پر محنت کیجیے، انمول و خوش حال ہو جائیں گے۔ تلخ تجربے سے بچنے والوں کے لیے نصیحت یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے آپ جیسے بھی ہیں ہمیشہ وہی رہیں۔ انسانی وجود پر آفاقی اصول یہی ہے، اسے تسلیم و عمل میں رکھیں۔ اگر آپ وہ بنیں گے جو آپ نہیں ہیں تو نفسیاتی اور اعصابی الجھنوں کا شکار ہو جائیں گے۔ خود کو بدقسمت سمجھنے والا شخص ہی وہ بننا چاہتا ہے جو وہ جسمانی و دماغی اعتبار سے ہے ہی نہیں۔
شوبز کی دنیا میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو وہ سکرین پر نظر آتے ہیں حقیقت میں ویسے نہیں ہوتے۔ عوام ان کے ایک روپ کا ذائقہ چکھ چکے ہیں، اب نئے روپ میں ڈھل رہے ہیں۔ روپ بدلتے بدلتے اپنی حقیقت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ انہیں اپنے آپ کو پہچاننے کے قابل بنانا بھی اک ذہنی علاج کا تقاضا کرتا ہے۔ جو بھی اپنی ذات کی حقیقت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے گا وہ فطرت کے خلاف جا رہا ہے۔ اب انسان بندر کی طرح نقل اتار کر کامیابی تو حاصل نہیں کر سکتا نہ میاں مٹھو بننے سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔ جو بھی وہ بننے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ نہیں ہے تو اسے جلدی علیحدہ کر دینا بڑا سودمند رہتا ہے کیونکہ نقل پانے کے عمل میں اصل کھو جاتا ہے۔
دنیا کے بازار میں کتنے ہی ایسے لوگ پھرتے ہیں جو اپنے آپ کو پہچانتے ہی نہیں۔ ریاکاری کا لبادہ اوڑھ کر صاف گو بننے کی اداکاری کرتے ہیں لیکن کھوٹے سکے سے مستقل کام نہیں چلتا۔ ایک غریب گھر کی لڑکی گلوکارہ بننا چاہتی تھی مگر اس کا چہرہ رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اس کے چوڑے منہ سے لمبے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے تھے۔ وہ لوگوں کے سامنے گاتے وقت دلکش نظر آنے کے لیے اوپر کا ہونٹ نیچے کھینچ کر دانت چھپانے کی کوشش کرتی تو گانے کی ترتیب بگڑ جاتی، نتیجہ فنی ناکامی میں نکلتا۔
ایک انسانی قدروں سے واقف شخص نے قیافہ شناسی سے اسے کہا کہ تمہارے بننے میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔ شرمندگی کے احساس سے خود کو آزاد کرکے پورے جوش اور دھیان سے گاؤ، تمہارے دانت تمہاری قسمت کے معاون بن جائیں گے۔ اس نے مخلص مشورے پر عمل کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی بلندیاں پاتے ہوئے فلموں اور ریڈیو کی چوٹی کی سٹار بن گئی۔ انسانی کمزوریاں غیر متوقع طور پر ہماری مدد کرتی ہیں۔
اوسط درجے کے شخص اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کے دس فیصد حصے کو پروان چڑھاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر نہیں پہچان پاتے۔ جو کچھ ہم ہیں اور جو کچھ ہمیں ہونا چاہیے ان دونوں پہلوؤں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف نیم بیدار لوگ ہیں جو اپنی حدود سے بہت دور نکل چکے ہیں، جبکہ ہم مختلف قسم کی قوتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ان انسانی قوتوں کو سمجھنے والا کبھی لوگوں کی مانند بننے میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ ہر انسان اس دنیا میں نئی چیز ہے، آغاز کائنات سے روز قیامت تک اس جیسا پیدا نہ ہوا نہ ہوگا۔
انسان میں تعجب خیز خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں منفی کو مثبت میں بدل دینے والی قوت موجود ہے۔ کسی بند کمرے کی کھڑکی سے زمین کے کیچڑ کو دیکھنے کی بجائے آسمان کے ستاروں بھی تو دیکھے جا سکتے ہیں۔ بہترین چیزیں انتہائی مشکل ضرور ہوتی ہیں مگر ناممکن نہیں۔
ہر انسانی وجود زندگی کی سڑک پر چلتے ہوئے حالات کی گاڑیوں سے ٹکرائے بنا منزل پر نہیں پہنچ پاتا مگر زخمی کرنے والے حادثات بھی ایک نئی سمت پر ڈال دیتے ہیں اور انسان نتیجہ دیکھ کر شکوے کی بجائے شکر کرنے لگتا ہے۔ صدمے اور افسردگی پر غالب آنے والوں کے لیے نئی دنیا میں داخل ہونا ہے۔ جب میرے ساتھ ہوا تو میں مطالعے میں ادبیاتِ عالیہ کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھنے لگا۔ کتابوں نے نئی دنیاؤں کے دروازے کھولے، زندگی پرسکون، مسرت بخش، نئے ولولے اور جوش سے لبریز ہو گئی۔ خیال کے نئے جہان مل گئے، اپنی زندگی کو حقیقی تناظر میں دیکھنے اور قدروں کے صحیح احساس حاصل ہونے میں کامیابی ملی اور یہ اندازہ بھی ہوا کہ بہت سی چیزیں جن کے پیچھے میں بھاگتا رہا وہ درحقیقت غیر اہم اور بے وقعت تھیں۔
آپ کو گرانے کے لیے کھڈا کھودا گیا اور آپ گر بھی گئے۔ اب حاسدوں کو کوسنے اور خود کو ڈانٹنے کی بجائے اس کھڈے کو حکمت عملی اور دانائی کے اوزاروں سے اتنا گہرا کیجیے کہ زمینی خزانے آپ کا استقبال کریں، یعنی حالات آپ کو نیبو دے تو زندگی کھٹی کرنے کی بجائے اس کا شربت بنائیے۔ اندھا انسان شاعری کے ذریعے آنکھوں والوں کو خیال کے رنگوں کی نشاندہی کروا سکتا ہے۔ ایک بہرا آدمی موسیقی کی آفاقی دھنیں بنا سکتا ہے۔ کتنے ہی ایسے تقدیر کی گاڑی تلے آئے اپاہج انسان اس دنیا میں موجود ہیں جن کی درخشاں حیات کے پیچھے عدم بصارت، بہرا پن، لولے لنگڑے جیسے اعضاء کی محرومی کے حادثات کا ہاتھ ہے۔ کیا پتا شاید میرے ساتھ بھی کوئی حادثہ ہوا ہو جو دل کی گہرائیوں سے یہ پھڑپھڑانے والے الفاظ ابھرتے ہوئے تحریر میں آ جاتے ہیں۔
اپنے اوپر ترس کھا کر پھولوں کی سیج کے آرزو مند بنے رہنے کی بجائے ذہن سے خوف کا پردہ ہٹا کر ہمت کے ہتھیار سے وہ کانٹے کاٹ ڈالیے جو آپ کو پھولوں کی پنکھڑیوں پر خوشبودار بسیرے سے محروم رکھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی پوری ایمانداری، محنت اور اسلوب سے کرنے کا مزہ لیجیے۔ مجھے ایک دفعہ بیوی کی غیر موجودگی میں گھر کے کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے برتن دھوئے جس سے میرے وجود اندر عجیب سا ہیجان برپا ہو گیا۔ صابن کی رنگین روئیں دار جھاگ سے کھیلنے کا لطف اندوز نظارہ رونما ہوا۔ صابن میں ہاتھ ڈبوتا تو چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی گیندیں بن جاتیں، انہیں اٹھا کر روشنی میں دیکھتا، ہر بلبلے میں چھوٹے پیمانے کی دھنک کے شوخ اور دلکش رنگوں نے دنیا ہی بھلا دی۔
کچن کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو فضا میں اڑتے پرندوں کے خاکستری پر پھڑپھڑاتے نظر آئے۔ چڑیوں بلبلوں کو دیکھ کر وجد طاری ہوا تو خدا کا شکر بجا لانے لگا جس نے مجھے زندگی، حسن اور رعنائی کی سرزمین پر بسر کرنے کے لیے قدرتی نظارے دیکھنے والی آنکھیں عطا کیں اور نہ اتنا سیراب کیا کہ میں مزید لطف اندوز نہ ہو سکوں۔
