ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ /نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ضلعی ہیڈکوارٹرز پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب میں گندم کی باقیات کو آگ لگانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام ریسکیو افسران نے شرکت کی۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم ریسکیو 1122 میں گندم کی باقیات کو آگ لگانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث قریبی کھیتوں میں موجود گندم کی فصل اور بھوسہ بھی آگ کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موسم کی شدت کے باعث یہ آگ پھیل کر نہروں، دریاؤں، موٹروے اور سڑکوں کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے، جس سے فضائی آلودگی میں اضافہ اور دیگر کسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی باقیات کو آگ لگانا قانوناً جرم ہے، اس لیے کسان فصل کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ نہ لگائیں اور مکمل احتیاط کریں تاکہ قریبی کھیت محفوظ رہ سکیں۔
مزید براں انہوں نے خبردار کیا کہ کھیتوں کے اوپر سے گزرنے والی ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن (HT/LT) بجلی کی تاریں اکثر ڈھیلی ہونے کی وجہ سے نیچے آ جاتی ہیں، جس کے باعث ہارویسٹر مشینیں اور ٹرالیاں ان سے ٹکرا کر جان لیوا حادثات کا سبب بن رہی ہیں۔ اس لیے کسانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے کھیتوں میں واپڈا سے رابطہ کر کے بجلی تاروں کی مقررہ اونچائی یقینی بنائیں اور تاروں کے نیچے ٹرالیاں یا بھوسے سے لدی گاڑیاں کھڑی یا لوڈ کرنے سے گریز کریں۔
