اقتدار کی کھینچاتانی یا نئی آئینی انجینئرنگ؟

محسن نقوی،نئے صوبے، 28ویں ترمیم اور اقتدار کی کھینچاتانی
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں بظاہر غیر اہم اور معمولی سے نظر آنے والے بیانات بعض اوقات اقتدار کے ایوانوں اور سیاسی راہداریوں میں ایک ایسا ہمالیائی طوفان برپا کر دیتے ہیں جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ‘پاکستان اکنامک سمٹ’ کے باوقار پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے دیا گیا یہ بیان کہ "موجودہ نظام اپنی افادیت مکمل طور پر کھو چکا ہے اور ملک کو بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی شدید ضرورت ہے”، محض ایک وزیر کی انفرادی رائے یا گورننس پر معصومانہ مشورہ معلوم نہیں ہوتا۔ سیاسی تجزیہ نگاری کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بیان، معروف صحافی و تجزیہ کار مزمل سہروردی کے سنسنی خیز اور تہلکہ خیز انکشافات، اور بعد ازاں عسکری ترجمان کے محتاط ردِعمل کے ساتھ مل کر، پاکستان کے آئینی، وفاقی، مالیاتی اور جیو پولیٹیکل نقشے میں ایک بہت بڑے اور ممکنہ بھیلاؤ کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

ہمارے ہاں بنیادی طرزِ حکمرانی اور سروس ڈیلیوری کے شدید بحران سے کسی طور انکار ممکن نہیں ہے۔ پنجاب جیسے ساڑھے بارہ کروڑ سے زائد آبادی والے ایک دیوہیکل صوبے کو لاہور میں بیٹھے ایک ہی مرکز یا سیکرٹریٹ سے چلانا، یا بلوچستان کے وسیع و عریض، دشوار گزار رقبے اور سندھ کے شہری و دیہی علاقوں پر بلا شرکتِ غیرے صوبائی دارالحکومتوں کا مطلق العنان تسلط قائم رکھنا، بلا شبہ عوام کو ان کی بنیادی سہولیات، انصاف اور ترقیاتی حقوق سے محروم رکھ رہا ہے۔ محسن نقوی کا یہ بنیادی نقطہ نظر کہ ہماری موجودہ صوبائی حد بندیاں انتظامی طور پر مفلوج اور غیر فعال ہو چکی ہیں، اپنی جگہ ایک وزنی اور حقیقت پسندانہ دلیل رکھتا ہے۔ تاہم، جب یہی بات صرف انتظامی اصلاحات اور اقتصادی بہتری کے دائرے سے نکل کر گہرے آئینی ردوبدل، سیاسی دباؤ اور اقتدار کی نادیدہ کھینچ تان کے قالب میں ڈھلتی ہے تو اس کے پسِ پردہ کارفرما سیاسی و سٹریٹجک محرکات کی باریک بینی سے ٹٹول انتہائی ضروری ہو جاتی ہے۔

معروف تجزیہ کار مزمل سہروردی نے اس سیاسی ڈرامے کی تہوں کو کھولتے ہوئے جو مبینہ خاکہ پیش کیا ہے، وہ ملکی سیاست کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی فکر انگیز ہے۔ ان کے مطابق، محسن نقوی کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ہونے والی اہم ملاقات اور اس کے فوراً بعد پریس کے سامنے یہ اہم بیان سامنے آنا، آنے والی ایک بہت بڑی آئینی تبدیلی یعنی 28ویں آئینی ترمیم کا واضح اور باقاعدہ پیش خیمہ ہے۔ مزمل سہروردی نے اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ن) طاقتور حلقوں کے اس اصلاحاتی اور آئینی ایجنڈے پر مکمل طور پر آمادہ اور متفق ہو چکی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کو باقاعدہ طور پر چارج شیٹ کر دیا گیا ہے اور اس پر سیاسی و آئینی دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اس پورے ابھرتے ہوئے تجزیاتی منظرنامے کا اگر باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی اس تمام بحث اور کشمکش کا مرکزی فریق بن کر ابھرتی ہے۔ پیپلز پارٹی، جو تاریخی طور پر 18ویں آئینی ترمیم، نائنتھ این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی خودمختاری کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی آئینی اور سیاسی کامیابی قرار دیتی ہے، اس وقت بظاہر مختلف اطراف سے شدید دباؤ کے گھیرے میں ہے۔ مقتدر حلقوں، وفاقی بیوروکریسی اور بعض معاشی ماہرین کا ایک عرصے سے یہ ماننا ہے کہ 18ویں ترمیم کی موجودہ شکل میں موجودگی اور این ایف سی ایوارڈ کی موجودہ مالیاتی تقسیم کے بعد وفاق یعنی مرکز کے پاس اتنے معاشی وسائل باقی نہیں بچتے کہ وہ ملکی دفاع کے خطیر اخراجات، بنیادی انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور بین الاقوامی قرضوں کی اقساط آسانی سے ادا کر سکے۔ پیپلز پارٹی پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی اس غیر متوازن تقسیم میں کسی بھی قسم کی لچک دکھانے یا ترمیم کرنے سے صاف انکاری ہے، جسے مقتدر حلقے ملکی معاشی استحکام اور بنیادی اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔

مالیاتی تنازعات کے علاوہ، معاشی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی اختلافات کی خلیج کافی گہری نظر آتی ہے۔ بنجر زمینوں کی آباد کاری کے لیے نہری نظام کی توسیع ہو، یا زرعی شعبے میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے کی جانے والی پیش رفت، پیپلز پارٹی کے تحفظات اور صوبائی حقوق کے نام پر سامنے آنے والے اختلافات اکثر وفاقی ایجنڈے اور ریاست کی طے شدہ معاشی حکمتِ عملی کی راہ میں رکاوٹ سمجھے جاتے رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف معیشت، این ایف سی ایوارڈ اور نہروں کے منصوبوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق پاکستان کے دفاعی اور خارجہ امور سے متعلق اہم معاملات سے بھی دکھائی دیتا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ مہینوں کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک، وہاں ہونے والے بڑے پیمانے کے عوامی احتجاج اور اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیانات اور ردِعمل کو ریاست کے قائم شدہ طاقتور حلقوں میں کچھ زیادہ پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے خط کے ذریعے تنازعات اور عوامی خدشات کے حل کے لیے ایک ‘ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن’ (Truth and Reconciliation Commission) قائم کرنے کی جو تجویز موصول ہوئی، اس پر ان کا مثبت اور لچکدار سیاسی ردِعمل ریاستی پالیسی کے لیے خوشگوار ثابت نہیں ہوا۔ سہروردی کے الفاظ میں، مقتدر حلقے اس قسم کے اقدامات کو محض آنے والے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کی خاطر قومی مفاد پر سیاسی مفاد کو ترجیح دینے اور طے شدہ کشمیر پالیسی سے انحراف کے مترادف سمجھتے ہیں۔

انہی تمام پیش رفتوں اور پیچیدہ تنازعات کی روشنی میں مزمل سہروردی نے ایک انتہائی حساس دعویٰ یہ بھی کیا ہے کہ آنے والی 28ویں آئینی ترمیم محض کوئی افواہ یا قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک طے شدہ حقیقت بننے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس ممکنہ ترمیم کے بعد آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کی مکمل آئینی و صوبائی حیثیت دے دی جائے گی، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل کا یہ سلسلہ اگر موجودہ حکومت برقرار رہی تو سال 2029ء تک ایک مسلسل اور تدریجی عمل کے طور پر یونہی جاری رہے گا۔

دوسری جانب، اس تمام ہنگامہ خیز صورتحال اور افواہوں کے گرم بازار میں عسکری ترجمان، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی باقاعدہ وضاحت انتہائی معنویت کی حامل ہے۔ انہوں نے واضح اور شستہ الفاظ میں بیان کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کے بارے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان محض ان کی ذاتی اور انفرادی رائے ہے، اور اس حساس معاملے پر کوئی بھی حتمی یا آئینی فیصلہ کرنا صرف ملک کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں یعنی پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اس سرکاری وضاحت کے بعد اگرچہ یہ تاثر کسی حد تک کمزور پڑ گیا کہ کوئی تیار شدہ آئینی منصوبہ فوری طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، تاہم ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی ‘ذاتی آراء’ اکثر بعد میں سامنے آنے والی اہم سیاسی پیش رفتوں، آئینی تبدیلیوں اور غیر معمولی فیصلوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی رہی ہیں۔

آئینی اور قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ آئینِ پاکستان میں کسی بڑی ترمیم، 18ویں ترمیم کے ڈھانچے میں تبدیلی یا نئے صوبے کے قیام کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ناگزیر ہے، جبکہ بعض صورتوں میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول، شدید محاذ آرائی اور حکومتی اتحاد کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو دیکھتے ہوئے ایسی کسی بڑی آئینی تبدیلی کے لیے مطلوبہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔

سیاسی و معاشی مبصرین کے نزدیک اس تمام مباحثے کا سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا واقعی نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے ہمہ گیر انتظامی اور معاشی مسائل کا اصل اور واحد حل ہے؟

اس حوالے سے دو مختلف مکتبہ فکر واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔ پہلے مکتبہ فکر کا ماننا ہے کہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ اور ابھرتے ہوئے ممالک کی طرز پر پاکستان میں بھی موجودہ چار بڑے اور غیر متوازن صوبوں کی بجائے 30 سے 40 چھوٹے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں۔ ان کے بقول چھوٹے یونٹس سے بیوروکریسی کا سائز اور اثر و رسوخ کم ہوتا ہے، مالیاتی وسائل کی مساوی تقسیم ممکن ہوتی ہے، اور سروس ڈیلیوری بغیر کسی تاخیر کے براہِ راست عوام کی دہلیز تک پہنچ جاتی ہے۔

اس کے برعکس، دوسرا اور زیادہ حقیقت پسندانہ مکتبہ فکر اس نقطہ نظر سے شدومد کے ساتھ اختلاف کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جیسے پہلے سے شدید مقروض، معاشی طور پر زبوں حال اور مالیاتی خسارے کا شکار ملک میں درجنوں نئے صوبے بنانا دراصل نئے گورنر ہاؤسز، وزرائے اعلیٰ، صوبائی سیکرٹریٹس، وزراء کی فوجِ ظفر موج اور نئی اسمبلیوں کے اخراجات کا ایک نیا اور نہ ختم ہونے والا معاشی بوجھ عوام پر ڈالنے کے مترادف ہو گا۔ ان کے نزدیک ملکی مسائل کا حقیقی، پائیدار اور کم خرچ حل نئے صوبے تشکیل دینے کی بجائے آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت ایک بااختیار اور مضبوط بلدیاتی نظام (Local Government System) کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔ اگر تمام مالیاتی فنڈز، انتظامی اختیارات اور ترقیاتی فیصلے ڈسٹرکٹ، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر منتقل کر دیے جائیں تو ازخود نئے صوبے بنانے کی پیچیدہ اور متنازع ضرورت ہی ختم ہو جاتی ہے۔

اب یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ محسن نقوی کے ایک بیان نے ملکی سیاست میں ایک نئی اور دور رس بحث کو جنم دے دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ معاملہ اب صرف نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام تک محدود نہیں رہا بلکہ 18ویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم، اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت جیسے اہم قومی معاملات بھی اس بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ موضوع محض انتظامی تبدیلیوں کا نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے سے جڑا ایک اہم قومی مباحثہ بنتا جا رہا ہے۔

اگر تجزیہ کاروں کے ان انکشافات کو سچ تسلیم کر لیا جائے کہ 28ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ پائپ لائن میں تیار ہے اور پیپلز پارٹی کو آئینی ترمیم پر راضی کرنے کے لیے سیاسی و معاشی گھیراؤ تنگ کیا جا رہا ہے، تو آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاست ایک شدید ترین آئینی بحران اور سیاسی محاذ آرائی کے نئے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ سب صرف سیاسی قیاس آرائیاں بھی ثابت ہوں، تب بھی محسن نقوی کے ایک بیان سے اٹھنے والا یہ طوفان اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر چکا ہے کہ 1973ء کا موجودہ آئینی اور انتظامی فریم ورک اپنی افادیت کھو چکا ہے اور موجودہ سٹرکچر کے ساتھ ملک کو درپیش معاشی و انتظامی بحرانوں سے نکالنا ممکن نہیں رہا۔ اس تمام صورتحال کی روشنی میں یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستان کی قومی سیاست کا حقیقی محور و مرکز صرف روایتی زبانی جمع خرچ یا عارضی معاشی اقدامات نہیں ہوں گے بلکہ یہ اقتدار کی کھینچاتانی، "آئینی انجینئرنگ” اور "انتظامی ری سٹرکچرنگ” کا وہ تاریخی معرکہ ہو گا جس کے اثرات ملکی سیاست اور جغرافیائی نقشے پر انمٹ نقوش چھوڑیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے