سابق پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر عبداللہ طاہر قتل، ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

لاہور/اوکاڑہ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف ملک ظفر ) دیپالپور سے تعلق رکھنے والے معروف سرکاری ٹھیکیدار، سیاسی و کاروباری شخصیت اور سابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری عبداللہ طاہر لاہور میں قاتلانہ حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کے بعد سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی جبکہ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش تیز کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چوہدری عبداللہ طاہر لاہور کے علاقے گلبرگ میں اپنی رہائش گاہ سے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے جا رہے تھے کہ غالب مارکیٹ کے علاقے میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ حملہ آور واردات کے فوراً بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق قتل کے محرکات، ذاتی دشمنی، کاروباری معاملات اور دیگر ممکنہ وجوہات سمیت تمام زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب واردات میں ملوث ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ فوٹیج میں دو مشتبہ افراد کو واردات سے قبل کلینک کے باہر موٹرسائیکل کھڑی کرتے اور بعد ازاں علاقے سے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں دونوں ملزمان ہیلمٹ پہنے ہوئے نظر آتے ہیں اور انہوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے موٹرسائیکل سے اترنے کے بعد بھی ہیلمٹ نہیں اتارے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

ایس ایچ او غالب مارکیٹ رانا اویس کے مطابق مقتول عبداللہ طاہر کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

چوہدری عبداللہ طاہر کے قتل کی خبر پر اوکاڑہ، دیپالپور اور دیگر علاقوں میں سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مختلف شخصیات نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے