ماڈل بازار میں 25 میں سے صرف 2 کیمرے بند ہونے پر سوالات اٹھ گئے

قصور(کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو) ماڈل بازار قصور میں اچانک لگنے والی آگ نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں تقریباً 30 دکانیں مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگئیں اور لاکھوں نہیں بلکہ ایک کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کا ابتدائی اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔

متاثرہ دکانوں میں ایک دکاندار کی تین دکانیں بھی شامل ہیں، جن میں موجود تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کا سامان، جس میں امپورٹڈ کمبل، پردے اور دیگر اشیا شامل تھیں، جل کر تباہ ہوگیا۔

واقعے کے بعد سی سی ٹی وی کیمروں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ماڈل بازار میں نصب 25 کیمروں میں سے صرف وہی دو کیمرے بند ہیں جو مبینہ طور پر آگ لگنے والے مقام کی جانب نصب تھے، جس پر شہریوں اور متاثرہ دکانداروں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ آگ حادثاتی طور پر لگی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے، اس کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پنجاب سہولت بازار اتھارٹی صدام حسین نے ماڈل بازار کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

متاثرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے نقصان کا فوری تخمینہ لگانے، آگ لگنے کی وجوہات سامنے لانے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی بندش کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے