کندھ کوٹ (کیو این این ورلڈ/وقاراحمد اعوان ) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون کشمور کندھ کوٹ مسرور احمد بجارانی کی زیرِ صدارت پولیو بوسٹر ڈوز مہم سے متعلق ایک اہم آگاہی سیشن منعقد ہوا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، صوبائی و وفاقی محکموں کے افسران، محکمہ صحت کے حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سید اعجاز علی شاہ، ای او سی اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندوں ڈاکٹر مظہر اور ڈاکٹر ریاض نے پولیو بوسٹر ڈوز مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر میں پولیو بوسٹر ڈوز مہم 8 اگست سے شروع کی جائے گی، جس کے دوران 4 ماہ سے 10 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو بوسٹر ڈوز دی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اسی ہفتے سے سوشل موبلائزرز گھر گھر جا کر بچوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کریں گے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو بوسٹر ڈوز سے محروم نہ رہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مسرور احمد بجارانی نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک بیماری ہے جو بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے دوچار کر سکتی ہے، اس لیے بچوں کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیو بوسٹر ڈوز انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ ہر بچے تک پولیو ویکسین پہنچا کر اسے مستقل معذوری سے بچایا جائے، لہٰذا والدین اپنے بچوں کو مقررہ وقت پر پولیو بوسٹر ڈوز ضرور دلوائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، علمائے کرام اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ مساجد، جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور دیگر مذہبی مواقع پر پولیو بوسٹر ڈوز کی اہمیت اجاگر کریں اور والدین کو اپنے بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے کی ترغیب دیں۔
اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام نے پولیو بوسٹر ڈوز مہم کی بھرپور حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحت اور محفوظ مستقبل کے لیے اس مہم کو کامیاب بنانا قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو بوسٹر ڈوز ضرور دلوائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر ایک عالمِ دین نے علامتی طور پر پولیو بوسٹر ڈوز بھی دلوائی، جسے شرکاء نے سراہتے ہوئے عوامی اعتماد کے فروغ اور مہم کی کامیابی کی جانب ایک مثبت اور مؤثر قدم قرار دیا۔