ٹرمپ کا ہرمز میں جہاز نکالنے کا اعلان، ایران نے مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے دیا

(ویب ڈیسک: کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے اور بحری نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے ‘پروجیکٹ فریڈم’ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دینے کی وارننگ دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک، جو مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازع کا حصہ نہیں، نے امریکا سے اپنے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق امریکا پیر کی صبح سے اس آپریشن کا آغاز کر رہا ہے جس کے تحت غیر جانبدار ممالک کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘پروجیکٹ فریڈم’ کا مقصد ان ممالک اور کمپنیوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے جو موجودہ کشیدگی میں ملوث نہیں اور جن کے جہاز ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی نمائندوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے جہازوں اور ان کے عملے کو بحفاظت نکالیں تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ کئی جہازوں پر خوراک اور ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث عملے کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے یہ اقدام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران نے امریکی اعلان پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے معاملات بیان بازی سے نہیں بلکہ زمینی حقائق سے طے ہوتے ہیں اور اس حساس خطے میں کسی بھی یکطرفہ اقدام کی گنجائش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، اور امریکا کے اس اقدام کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے