جشن آزادی: میرا پاکستان، میری ذمہ داری
تحریر ۔ سید نذیر شاہ
رات کے تاریک سائے ڈھل رہے تھے اور گھڑی کی سوئیاں 13 اگست 1947 کی رات 11 بج کر 59 منٹ پر ایک نئے عہد کے استقبال میں آگے بڑھ رہی تھیں۔ وہ لمحے ایک نئی قوم کے جنم سے پہلے کا ایسا سحر انگیز سکوت تھے جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے۔ پورا برصغیر سانس روکے مستقبل کے ایک فیصلے کا منتظر تھا اور ہر نگاہ ریڈیو سیٹ پر جمی ہوئی تھی۔ پھر اچانک ریڈیو کے اسپیکر سے سرسراہٹ ابھری، فضا پر سکوت طاری ہو گیا اور ایک پُروقار آواز نے تاریخ کا دھارا بدل دیا "یہ ریڈیو پاکستان ہے! ہم لاہور سے بول رہے ہیں، 14 اگست 1947… مبارک ہو، پاکستان آزاد ہو گیا ہے!”
14 اگست 1947ء کو انتہائی محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے درمیان معرضِ وجود میں آنے والے پاکستان کے بارے میں اس وقت کئی بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور ہندوستانی رہنماؤں کا خیال تھا کہ یہ ریاست زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ اس قوم نے اپنے ایمان، ایثار اور بے مثال ثابت قدمی سے تمام منفی پیشگوئیوں کو خاک میں ملا دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ خونریز جنگوں، معاشی و سیاسی تلاطم اور عالمی طاقتوں کے شدید دباؤ کے باوجود یہ ملک اپنی بقا کا دفاع کرتا رہا اور 28 مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے عالمِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت بن گیا۔ ایک باہمت قوم کی حیثیت سے ہم نے ہر آزمائش کا مقابلہ کیا اس طویل اور کٹھن سفر میں اگرچہ ہم نے اپنے بانی رہنماؤں کی جلد رخصتی اور 1971ء کے سانحے جیسے دلدوز زخم سہے، لیکن مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی سسکیاں ہمیں یہ احساس دلانے کے لیے کافی ہیں کہ آزادی کی نعمت کس قدر انمول اثاثہ ہے۔
آج آزادی کی نعمت کے ساتھ یہ سوال بار بار گونجتا ہے کہ اس وطن کے لیے ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ یہ سوال ہر پاکستانی سے ہے، چاہے وہ ملک میں ہو یا بیرونِ ملک۔ کیا ہم واقعی قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے رہے ہیں اور اپنے عمل سے پاکستان کی عزت میں اضافہ کر رہے ہیں؟کیا ہم شعوری طور پر پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں یا غیر مصدقہ معلومات اور پروپیگنڈے کا حصہ بن کر اپنے ہی وطن کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ آج کے دور میں ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ کو پرکھے، تصدیق کے بغیر کوئی بات آگے نہ پھیلائے اور قومی مفاد کا خیال رکھے۔وطن سے محبت خامیوں پر پردہ ڈالنا نہیں بلکہ دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ اصلاح کرنا ہے۔ سچ پر مبنی تنقید قوم کو مضبوط بناتی ہے مگر فرقہ وارانہ، صوبائی یا سیاسی مخالفت میں الجھ کر ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پھیلانا اپنے ہی گھر کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
اس عظیم اور باوقار سفر میں پاکستان کی ترقی کا سب سے مضبوط ستون ہماری قومی یکجہتی ہے۔ سندھی، بلوچ، پنجابی، پختون، کشمیری، سرائیکی، گلگتی اور بلتی یہ تمام قومیتیں اس مقدس مٹی کا حسن اور اس کا اصل مان ہیں۔ زبان، ثقافت، رسم و رواج اور صوبائی تنوع کے باوجود ہم سب کی پہلی اور آخری پہچان صرف اور صرف ‘پاکستانی’ ہونا ہے۔جب ہمارا سبز ہلالی پرچم بلندیوں پر لہراتا ہے، تو وہ ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ تمام جغرافیائی و لسانی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک قوم بننا ہی ہماری اصل قوت ہے۔ قومی یکجہتی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ رائے کا اختلاف ختم ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اختلافات کو نفرت کے بجائے برداشت، احترام اور مثبت مکالمے سے حل کیا جائے۔ جب قوم ہر ذاتی، گروہی اور سیاسی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دینا شروع کرتی ہے تو ملک حقیقت میں مضبوط ہوتا ہے۔ یہی فکر اور عمل پاکستان کو اندرونی استحکام، پائیدار ترقی اور عالمی وقار عطا کر سکتا ہے۔
پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث عالمی تجارت اور علاقائی روابط کا اہم مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے، ایران و خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات، اور امریکہ و مغربی دنیا کے ساتھ سفارتی روابط اس حقیقت کا واضح مظہر ہیں کہ پاکستان کا بین الاقوامی کردار محض بھارت تک محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرۂ اثر کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے سے لے کر خطے میں کشیدگی کم کرنے کی مختلف سفارتی کوششوں تک، اسلام آباد نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان عالمی امن، علاقائی استحکام اور سفارتی مفاہمت کے فروغ میں ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست ہے۔ معرکہ ’بنیان المرصوص‘ میں پاکستان نے بھارت کے رافیل سمیت 8 جنگی طیارے تباہ کر کے اپنی عسکری مہارت کا لوہا منوایا جس کے باعث عالمی سطح پر اس کی پیشہ ورانہ عسکری صلاحیتوں اور دفاعی استعداد کو مزید سنجیدگی اور احترام کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
یومِ آزادی کے اس پرمسرت اور تاریخی موقع پر، اگرچہ ہماری مملکت کو معاشی، انتظامی اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، مگر یہ غیور قوم اپنے پُرعزم جوانوں کے لازوال جنون، غیر متزلزل دفاع اور سفارتی دانائی کی بدولت ہر آزمائش کا مقابلہ کرنے کی کامل صلاحیت رکھتی ہے۔ بحرانوں کے طوفان جتنے بھی شدید ہوں، یہ مقدس دھرتی کبھی ڈوبنے کے لیے نہیں بنی، بلکہ ہر تاریکی کا سینہ چیر کر بلند ہونے کے لیے تراشی گئی ہے۔ یہ ملک محض ایک خطہ زمین نہیں، بلکہ ہماری عزت، ہماری شناخت، ہمارے شہداء کی مقدس امانت اور ہمارے بچوں کا تابناک مستقبل ہے۔ ابھرتا ہوا یہ ایٹمی پاکستان دنیا کے فیصلہ ساز ایوانوں میں ایک پُروقار اور ناقابلِ فراموش دستخط بن چکا ہے، جو صرف اپنی سرحدوں کا نگہبان نہیں، بلکہ عالمی امن کے قیام اور بین الاقوامی تنازعات کی مصالحت کا ایک ذمہ دار علمبردار بھی ہے۔ بین الاقوامی اور سفارتی محاذ پر نمایاں کامیابیوں کے بعد، اب اصل اور سب سے بڑا چیلنج داخلی محاذ کو مضبوط بنانا ہے تاکہ عوام کو ان کامیابیوں کے ثمرات مل سکیں
آج پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کی اصل قوت اور روشن مستقبل کی سب سے بڑی امید ہیں۔ آزادی کے اس مبارک دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اپنے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور مضبوط اخلاقی اقدار سے آراستہ کریں گے، تاکہ وہ ملک کی ترقی اور استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، مگر فرسودہ نظام اور سست سرکاری مشینری کے باعث موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ بیرون ملک پاکستان کی کامیابیوں کے بعد اب اندرون ملک بھی فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں حکومت، اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں اور مقامی حکومتوں کو حقیقی مالی و انتظامی اختیارات منتقل کیے جائیں، تاکہ عوام کو بروقت سہولتیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں۔ جب ریاستی نظام عوام کے قریب ہوگا تو عوام کا ریاست پر اعتماد بھی بحال ہوگا، اور یہی اعتماد مضبوط جمہوریت، حقیقی آزادی کی روح اور ایک مستحکم، خوشحال و مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔