جشن آزادی: میرا پاکستان، میری ذمہ داری
تحریر۔صباحت آصف
ابتداء ہے رب جليل كے بابركت نام سے جو ہماری شہر رگ سے بهى زياده قريب ہے۔۔
خدا کرے كہ میری ارض پاك ير اترے
وه فصل گل جسے انديشه زوال نہ ہو۔۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کا مطلب لاالہ الااللہ ہے۔یہ ہمیں بہت سی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔یہ ایک لفظ ہی نہیں ، بلکہ خون جگر سے لكهى گى وه داستان ہےجس كے ہر ورق ير ہماری اسلاف كى قربانيوں كی داستان رقم ہے۔یہ دن جھنڈیاں لہرانے یا چراغاں کرنے کا دن نہیں ۔بلکہ یہ دن اپنے آپ سے عہد کا دن ہے۔قائد اعظم محمد على جناح كا فرمان اور علامہ اقبال كى سوچ ہمارا وه اثاثہ ہیں ۔جس کی حفاظت ہما را فرض ہے۔۔
و طن كى مٹى گواه رہنا، گواه رہنا
زمين كى سرخروئى كى خاطر، جوان جتنے نثار بوئے ہیں۔۔
14اگست 1947 کو پاکستان آزاذ ہوا۔یہ آزاذی ہم نے اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے حاصل کیا۔اس آزادی میں کئی ماں کے بیٹوں کا خون ،کئی خاندان اجڑ گئے ۔لیکن شاید ہم بھول گئے کہ ہم نے پاکستان حاصل کرنے کے لئے کتنی قربانیاں دی۔۔
زمیں پر جب لکیروں کے نشاں تھے۔
قفس میں ہم بھی بے نام و نشاں تھے۔
لہو دے کر سجائی جو یہ دنیاوہ غنچے آج بھی شاداب و جواں ہیں۔
بھلا کیسے بھلائیں ہم وہ منظر۔
جب قافلے، اجڑے تھے گھر درمگر عزمِ جواں سر جھک نہ پایااندھیروں میں بھی اک سورج ابھرا ۔۔
آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آزادی کتنی قیمتی ہے۔ اس پرچم کی شان کو برقرار رکھنا ہمارا فرض ہے۔ بمين اپنےماضى كے زخموں سے سيکھ كر ايک ايسی مستقبل كى بنياد ركهنىی ہے۔ جہاں انصاف، خوشحالى اور امن كا بول بالا ہو۔
یہ ملک ہمارا ہے، اور اس كی گرتی بوئى ديواروں كو سنبهالنا، اس كى معيشت كو سہارا دينا اور اس کے نام كو دنيا بھر ميں روشن كرنا ميرى، آب كى اور بم سب كى مشثرکہ، ذمہ داری ہے۔ہمیں اپنے قائد کی محنت اور ان کے اصولوں کو یاد رکھنا چاہیے۔۔
آج ہم اپنا مقصد ،زمہ داری بھول گئے ۔کیا پاکستان میں آج واقعی آزادی ہے۔کیا یہاں پر ہر عورت کی عزتیں محفوظ ہے؟کیا یہاں پر سچ بولنے کی آزادی ہے۔کیا یہاں پر ہماری نوجوان نسل ازادی کا مطلب سمجھتی ہے ۔کیا ہمارے سیاسی قائدنے ایک اسلامی ریاست قائم کی ہے۔پاکستانی ہو نے کے ناطے ہمیں اپنا کام کر نا ہو گا۔یہ سب اپنے گھر سے شروع کرنا ہو گا۔ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت کر نی ہو گی۔اپنی بیٹیوں کی بھی تربیت کر نی ہو گی۔انصاف کر نا ہو گا۔اپنے پاکستان کو ہر برائی سے بچانا ہو گا۔ہمیں اپنی نوجوان نسل کوشعور دینا ہو گا۔ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو درست کرنا ہو گا۔اپنی نوجوان نسل کو فحاشی،بے حیائی،سے روکنا ہو گا۔ان کا مستقبل روشن کر نا ہو گا۔
ہے عزمِ نو، لبوں پہ ترانہ ہےپاکستان کو اب ہمیں آگے بڑھانا ہےیہ پاک زمین، یہ چاند ستارہ، یہ وطن میرااس کی حفاظت ہی تو اب فرض ہے میراصرف جشن منانا ہی نہیں حقِ مہر ہر موڑ پہ ملک کی کرنا ہے ہمیں خدمت تعمیرِ وطن میں اب اپنا کردار نبھائیں گےہم نوجوان ہی اس دھرتی کو چمکائیں گےنفرت کو مٹانا ہے، محبت کو سجانا ہےمل جل کے ہمیں اب ایک نیا کل بنانا ہےایمان، اتحاد اور تنظیم کی راہوں پر چلیں گےقائد کے خوابوں کو اب ہم سچ کریں گےرکھیں گے قدم آگے، کبھی پیچھے نہ ہٹیں گےہم اپنی ذمہ داری سے اب پیچھے نہ ہٹیں گے!
آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔غلا می ایک لعنت ہے۔ہمیں اس آزادی کی قدر کر نی چاہیے ۔ علامہ اقبال نے فر ما یا:
زمانے کے انداز بدل گئے
نئے دور کی نئی آواز آ گئی
مسلمانوں! جاگ اٹھو، اپنی پہچان کر لو
یہ وطن تمہارا ہے، اس کی شان بڑھا دو۔