جشن آزادی : میرا پاکستان میری ذمے داری
تحریر:طیبہ خالد حسین
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا ۔یہ ملک ہمیں بڑی قر بانیوں اور کو شیشوں سے حاصل ہوا۔مسلمانوں نے اپنی جا نیں،عزت کی قر با نی دے کر ایک آزاد ریاست قائم کی۔تا کہ مسلمان آزاری سے زندگی گزار سکیں ۔اور بغیر کسی کی غلامی کے ایک خوشحال زندگی بسر کریں۔پاکستان کا نعرہ لگانا اور صرف گھروں کو سجانا ہی ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ اپنے مُلک سے محبت اور اس کی ترقی میں اپنا کِردار ادا کریں ۔ آزادی کی قدر صرف وہی جانتے ہیں جنہوں نے غلامی دیکھی ہو .
میرا پاکستان میری ذمےداری” صرف ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ اس ملک کے رہنے والے ہر شہری کے لیے عہد اور فرض ہے۔ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمےداری ہے اپنے مُلک کو صاف ستھرا رکھنا ۔صفائی ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ جس کی بنیاد پر ملک قائم ہوا ۔ ہمیں اپنے گھر , تعلیمی ادارے،ہسپتال،اور دیگر اداروں کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔ہمیں ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانےچاہیے ۔ قانون کا احترام کرنا سب سے اہم ذمے داریوں میں سے ایک ہے ۔ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے قانون کی پاسداری کرنا ہم سب پر لازم ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ٹریفک قوانین کی پابندی کریں ۔ ایمانداری سے ٹکس ادا کریں۔اور ہر اُس کام سے بچے جو ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو ۔
آپس میں بھائی چارہ، اتحاد، محبت،احساس کو قائم کرنا ہے۔ جب تک ہم اس سے محروم رہیں گے ہم ایک ترقی یافتہ قوم نہ بن سکتے ۔ ہمیں اپنے پاکستانیوں کے خوشی اور غمی کی موقع پر اُن کے ساتھ ہونا چاہیے۔ بغیر کسی فرقہ وارانہ سوچ کے اور سندھی، بلوچی، پنجابی ان سب سے ہٹ کر صرف یہ سوچیں کے ہم ایک قوم ہیں ۔ ہم سب نے اس کی حفاظت مل کر کرنی ہے ۔
یہ وطن تمھارا ہے تم ہو پاسبان اس کے
یہ چمن تمھارا ہے تم ہو نگہبان اس کے
ہمیں اپنے مُلک کو رشوت خوری ، ناانصافی سے محفوظ بنانا چاہیے ۔ مُلک کی ذمےداری صِرف حکمرانوں پر ہی فرض نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی ذمےداری ہے ۔
آخر میں دعا ہے کے اللہ پاک اس ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین اللہ پاک اس سیالکوٹ انفارمیشن چنیل کو خوب ترقی دے آمین۔
پاکستان زندہ باد ۔
نوٹ: یہ تحریر بھی مقابلے میں شامل نہیں ہوسکی کیونکہ اس کے کل الفاظ عنوان ،نام اور اشعار سیمت 409 ہیں ،مقابلے کیلئے کم ازکم 800 الفاظ ہونا لازمی تھے