علاج یا استحصال؟ جمہورے کا طنز اور آج کا میڈیکل مافیا

میں ایک مریض بنوں گا
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

یہ میرے بچپن کا دور تھا، جب ذرائع ابلاغ, تفریح اور طنز و مزاح کا سب سے بڑا بلکہ واحد ذریعہ ایک چھوٹا سا ڈبہ ہوا کرتا تھا، جسے ریڈیو کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں خبروں کے لیے سب سے مستند اور قابلِ اعتماد ذریعہ بی بی سی اردو کو سمجھا جاتا تھا، جو اپنی غیرجانبدارانہ صحافت کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا تھا۔

صبح سات بجے تیس منٹ کی اردو نشریات نشر ہوتیں، جبکہ رات آٹھ بجے پہلے دس منٹ کا خبروں کا بلیٹن ہوتا، جس کے بعد مقبول پروگرام سیربین پیش کیا جاتا۔ اس دور میں رضا علی عابدی، ثریا شہاب اور کھیلوں کی خبروں کے لیے شفیع نقی جامی کی آوازیں سامعین کے دلوں میں گھر کر چکی تھیں۔ خصوصاً شفیع نقی جامی جب کھیلوں کی خبریں پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ خود کھیل کے میدان میں دوڑ رہے ہوں۔

بی بی سی اردو کے متعدد پروگرام سامعین میں بے حد مقبول تھے، مگر ان میں ایک ہفتہ وار پروگرام "سویرے سویرے” بھی تھا، جس میں مداری اور جمہورے کے کرداروں پر مشتمل ایک طنزیہ خاکہ پیش کیا جاتا تھا۔ خاکہ شروع ہوتے ہی ڈگڈگی کی آواز گونجتی، پھر مداری کی آواز سنائی دیتی: "جمہورے… گھوم جا!” جواب آتا: "مداری… گھوم گیا!”

اس کے بعد مداری پوچھتا: "جمہورے! آج کل کچھ غائب غائب رہنے لگا ہے؟” جمہورا معصومیت سے جواب دیتا: "مداری! میں پڑھنے کے لیے اسکول جا رہا ہوں۔” مداری خوش ہو کر کہتا: "اچھا! تو پڑھ لکھ کر کیا بنے گا؟” اور پھر جمہورے کا جواب سن کر انسان چونک جاتا: "مداری… میں پڑھ لکھ کر ایک مریض بنوں گا۔”

مداری حیرت سے پوچھتا: "ارے! پڑھ لکھ کر وکیل، بیوروکریٹ، سفیر یا بڑا کاروباری کیوں نہیں بنے گا؟ آخر مریض ہی کیوں؟” تب جمہورا انتہائی معصوم لہجے میں ایسا جواب دیتا جو بظاہر مزاحیہ تھا، مگر اپنے اندر ایک گہرا طنز سموئے ہوئے تھا: "مداری! میں پڑھ لکھ کر اس لیے مریض بنوں گا تاکہ دکھی ڈاکٹروں کی خدمت کر سکوں۔”

اس وقت یہ مکالمہ محض ایک طنزیہ جملہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اگر آج، تین چار دہائیاں بعد، ہم اپنے معاشرے اور نظامِ صحت پر نظر ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ اس مختصر سے خاکے میں چھپا طنز کس قدر دور اندیش تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے کئی پہلو حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کے شعبہ صحت میں جہاں چند دیانت دار اور فرض شناس معالج انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، وہیں کالی بھیڑوں کی ایک بڑی تعداد نے اس مقدس پیشے کو ایک بھیانک اور بے رحم کاروبار بنا دیا ہے۔ آج کا جدید ڈاکو گن کے بجائے قلم کی نوک سے غریب اور لاچار عوام کو دن دہاڑے لوٹ رہا ہے۔ مسیحا کہلانے والے یہ جلاد معصوم مریضوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کی جیبیں ہی نہیں، بلکہ ان کے جسموں کے اعضاء تک نوچ رہے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اس مکروہ دھندے کا پہلا پڑاؤ بن چکی ہے۔ غریب عوام جب مفت یا سستے علاج کی امید لے کر سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، تو وہاں موجود مفاد پرست ڈاکٹرز اور ان کے ایجنٹ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایجنٹ سرکاری ہسپتالوں میں جان بوجھ کر علاج معالجے میں تعطل پیدا کرتے ہیں اور سادہ لوح مریضوں کو مجبور کر کے انہی ڈاکٹروں کے نجی ہسپتالوں اور کلینکس کی راہ دکھاتے ہیں، جہاں داخل ہوتے ہی غریب کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ان پرائیویٹ ہسپتالوں میں معمولی بیماریوں پر بھی غیر ضروری آپریشن کرنا اب ایک عام سی بات بن چکا ہے۔

میڈیکل مافیا کا دوسرا بڑا ہتھیار ان کی اپنی اٹیچڈ فارمیسیز اور کلینکس ہیں۔ ان فارمیسیوں پر بازار میں ملنے والی عام اور معیاری ادویات کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ یہ ڈاکٹرز مخصوص غیر معروف فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے گٹھ جوڑ کر کے اپنی مرضی کی پیکنگ اور من مانی قیمتیں پرنٹ کرواتے ہیں۔ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ ان مخصوص بیچز میں سپوریئس (جعلی اور غیر معیاری) ادویات پیک کر کے مریضوں کو مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں، جو شفا دینے کے بجائے مریض کو مزید موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہیں۔

اس لوٹ مار کا تیسرا رخ غیر ضروری میڈیکل ٹیسٹوں کی بھرمار ہے۔ بھاری کنسلٹیشن فیسیں وصول کرنے کے بعد یہ ڈاکٹرز مریضوں کو مختلف نجی لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروانے کا پابند کرتے ہیں۔ الٹراساؤنڈ، ایکسرے، سی ٹی اسکین اور انتہائی مہنگے ایم آر آئی جیسے ٹیسٹوں کے عوض ان لیبارٹریوں سے 50 سے 60 فیصد تک "ککس بیک” اور کمیشن وصول کیا جاتا ہے۔ مریض کی جیب خالی کرنے کے لیے ایسے ٹیسٹ بھی لکھے جاتے ہیں جن کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

پیسے کی ہوس کا سب سے ہولناک اور بھیانک چہرہ انسانی اعضاء، خاص طور پر گردوں کی غیر قانونی اسمگلنگ اور پیوند کاری کے مکروہ دھندے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ قصور کے علامہ اقبال ہسپتال میں حالیہ چھاپے کے دوران منظرِ عام پر آنے والے واقعات نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں علاج کے بہانے لائے گئے مریضوں کے گردے نکالنے کا شرمناک انکشاف ہوا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، 2017 میں بھی لاہور سے انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید وفروخت اور اس گھناونے کاروبار میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب ہوا تھا، جس میں موجودہ دور کے ایک مقتدر سیاستدان اور ممبر پنجاب اسمبلی بھی گرفتار ہو چکے ہیں۔

مسیحائی کے پردے میں چھپے یہ جلاد چِٹی چمڑی والے ایسے لٹیرے ہیں جو قانون اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ آج بھی جمہورے کے وہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتے ہیں: ‘مداری! میں پڑھ لکھ کر ایک مریض بنوں گا تاکہ دکھی ڈاکٹروں کی خدمت کر سکوں۔’

اس وقت یہ ایک طنزیہ جملہ تھا، مگر آج بعض نام نہاد مسیحاؤں نے علاج کو خدمت کے بجائے کاروبار بنا دیا ہے، جہاں مریض کی تکلیف سے زیادہ اس کی جیب کا وزن دیکھا جاتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ جمہورا دراصل آنے والے وقت کی تلخ کہانی سنا رہا تھا جس کا سچ آج ہمارے سامنے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے