قومی اسمبلی میں بجٹ پر گرما گرم بحث، حکومت اور اپوزیشن میں سخت جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا، جس کے دوران ایوان میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور اپوزیشن کی جانب سے حکومتی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی۔

پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں صرف فرسٹ کلاس سفر کرنے والوں اور کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کو ریلیف دیا گیا ہے جبکہ ٹیکس گزاروں پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کو خطے میں سب سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں نوجوان کی قیمت 32 روپے لگا دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد میں ایک سموسہ 40 روپے کا بک رہا ہے۔ دوسری جانب ن لیگ کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مشکل ترین معاشی حالات میں حکومت سنبھالی تھی، مگر اب حکومتی کوششوں سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ چکی ہے اور 50 ہزار سے ایک لاکھ تک کی تنخواہ پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری انتہا کو چھو رہی ہے اور بانی پی ٹی آئی کو جیل مینول کے مطابق سہولیات اور معالج فراہم نہیں کیا جا رہا۔ اس پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کے اپنے دور میں اپوزیشن کو بدترین انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا اور ہم سب نے جیلیں کاٹیں۔ انہوں نے کہا کہ بات حقائق پر ہونی چاہیے۔ اجلاس میں پی پی پی کے حسین طارق اور آزاد رکن مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی کم آمدن والے طبقے کی مشکلات اور ٹیکس نظام پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ جے یو آئی کے جمال خان کاکڑ نے اسے موجودہ حالات میں بہترین بجٹ قرار دیتے ہوئے بلوچستان کے لیے مزید فنڈز کا مطالبہ کیا۔

ایوان سے باہر معاشی ماہرین اور صنعت کاروں نے بھی بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ معروف صنعت کار عارف حبیب نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ٹیکس ریٹس اب بھی بہت زیادہ ہیں اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث ملک میں نئی سرمایہ کاری کا آنا انتہائی مشکل ہے۔ اس کے برعکس، صنعت کار محمد علی ٹبہ نے کہا کہ بجٹ سے صنعتوں کو فائدہ ہوگا تاہم غریب عوام کے لیے مہنگائی بڑا نقصان ہے۔ دوسری طرف، پاکستان بزنس کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلف منیر نے بجٹ کی سمت کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے