حضرت مولانا عبدالرحمن جامی
ضیاء الحق سرحدی (ستارۂ امتیاز)، پشاور
ای میل: ziaulhaqsarhadi@gmail.com
تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں متعدد ایسی جامع الکمالات شخصیات کا ظہور ہوا ہے جن کے علمی، عرفانی اور عملی کارناموں سے آگاہ ہو کر ہر انصاف پسند شخص بے ساختہ حیرت زدہ ہو جاتا ہے، کیوں کہ کسی ایک شخص میں اتنی زیادہ ظاہری و باطنی خصوصیات کا بہ یک وقت اجتماع معمول کی بات نہیں ہوتی اور ایسی زندہ جاوید مثالیں نادر ہوتی ہیں۔
مولانا عبدالرحمن جامی عالم اسلام کی مقتدر شخصیات میں سے ایک اہم شخصیت ہیں، جو مورخ، سیرت نگار، سوانح نگار، نثر نگار اور شاعر کے علاوہ ایک عظیم صوفی بزرگ ہوئے ہیں۔ آپ کا شمار صفِ اول کے صوفیا کرام میں ہوتا ہے۔ تاریخ اور تصوف پر آپ کا کام رہتی دنیا تک یادگار رہے گا۔ علامہ جامی نے صوفیا کرام کے طریق پر عمل کرتے ہوئے بزرگانِ دین سے روحانی استفادہ کے لیے سفر و سیاحت کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور یوں دامنِ مراد میں روحانیت بھرتے گئے۔
مولانا عبدالرحمن جامی سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ آپ کا یہ پہلو آپ کو ممتاز کرتا ہے، جس کی وجہ سے شرق و غرب میں آپ کا شہرہ ہے۔ آپ نے جس والہانہ انداز سے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے، اس کا تمام فارسی ادب میں جواب نہیں ملتا۔ وہ وادیٔ بطحا میں پہنچ کر مدینہ، خاکِ مدینہ، خارِ مدینہ، حتیٰ کہ سگِ مدینہ کو بھی اپنے دل کے قریب پاتے ہیں۔ وہ سرزمینِ نبی ﷺ کو جانے والے قافلوں کو سلام کرتے ہیں۔ قافلۂ حجاز کے اونٹوں کے ساربان ان کے پیغام رساں ہیں، نسیمِ بہاری کو فریاد پہنچانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔
نسیما جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد را خبر کن
پھر فرماتے ہیں:
بانگ وصل از قافلہ برخاست خیز
اے سارباں! زخم بنہ بر راحلہ آہنگ رحلت کن رواں
یا رب مدینہ است ایں حرم
کز خاکش آید بوئے جاں
یا ساحت باغ ارم
یا عرصۂ روض الجناؔں
وہ عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر نعت لکھتے تھے اور وہ اس فن میں منفرد ہی نہ تھے بلکہ امام تھے۔ دیدارِ روضۂ اطہر کے لیے جس جذب و جنوں کا حصہ انہیں ملا تھا، وہ دوسرے شاعروں کے ہاں کم پایا جاتا ہے۔ وہ کوئے رسول ﷺ میں سر کے بل جاتے ہیں، دیدہ و دل فرشِ راہ کرتے ہیں، پلکوں سے جاروب کشی کرتے ہیں اور پھر فریاد، التجا، الحاح اور گریہ و فغاں کی جو رقت ان کے ہاں پائی جاتی ہے، اس سے رحمتِ دو عالم ﷺ کی گھٹائیں جھوم جھوم جاتی ہیں۔ وہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی محبت کے دامن میں لپٹ کر اپنی بات کہتے ہیں:
ادیم طائفی نعلین پاکن
شراک از رشتۂ جانہائے ما کن
جامی جس جذبہ و مستی میں بارگاہِ رسول ﷺ میں حاضر ہوتے ہیں، اس میں جنید و بایزید کا ادب بھی ہے اور بلال حبشیؓ کی رقت و والہیت بھی۔ (حالات جامی، مقدمہ شواہد النبو، صفحہ 14)
علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں:
حضرت شاہ محمد ہاشم جامع الشواہد میں تحریر فرماتے ہیں کہ ماہ ربیع الاول کی ایک پرکیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت مولانا عبدالرحمن جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی ﷺ کے قریب حبیبِ کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد و نعت کا سلسلہ جاری ہے۔ حضرت جامی بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکارِ ابد ﷺ منظور فرماتے ہیں۔
جب آنکھ کھلی تو جامی پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی۔ عالمِ جذب میں فرمانے لگے کہ وہ نورانی رخِ زیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے، جب جبینِ مقدس سے آپ ﷺ نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراجِ منیر کی تجلیاں نمودار ہونے لگیں۔
اس کے بعد جب جامی کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے:
نسیما جانب بطحا گزر کن
زِ احوالم محمد را خبر کن
ببر ایں جان مشتاقم در آں جا
فدائے روضۂ خیر البشر کن
توئی سلطانِ عالم یا محمد
زروئے لطف سوئے من نظر کن
مشرف گرچہ شد جامی ز لطفش
خدایا ایں کرم بار دگر کن
جامی بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ ﷺ نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔ (اغثنی یا رسول اللہ، صفحہ 17، 18)
حضرت مولانا عبدالرحمن جامی وہ عاشقِ رسول ﷺ ہیں جن کو بارگاہِ رسالت میں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔
دیوبند مکتبِ فکر کے مولانا ذکریا لکھتے ہیں:
مولانا جامی نور اللہ مرقدہ، یہ نعت لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضۂ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر اس نظم کو پڑھیں گے۔ جب حج کے بعد مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیرِ مکہ نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی۔ حضور اقدس ﷺ نے خواب میں ان کو ارشاد فرمایا کہ اس کو (جامی کو) مدینہ نہ آنے دیں۔
امیرِ مکہ نے ممانعت کر دی مگر ان پر جذب و شوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دیے۔ امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور ﷺ نے فرمایا: وہ آ رہا ہے، اس کو یہاں نہ آنے دو۔
امیرِ مکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستے سے پکڑوا کر بلایا، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا۔ اس پر امیرِ مکہ کو تیسری مرتبہ حضور اقدس ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کوئی مجرم نہیں ہے، اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا جس میں فتنہ ہو گا۔
اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز و اکرام کیا گیا۔ (تبلیغی نصاب، فضائلِ درود شریف، صفحہ 131)
حضرت عبدالرحمن جامی کی نعت کے چند اشعار:
زمہجوری بر آمد جانِ عالم
ترحم یا نبی اللہ ترحم
ترجمہ: آپ کے فراق سے کائناتِ عالم کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے۔ اے رسولِ خدا ﷺ! نگاہِ کرم فرمائیے، اے ختم المرسلین ﷺ! رحم فرمائیے۔
نہ آخر رحمۃ للعالمینی
ز محرومام چرا غافل نشینی
ترجمہ: آپ ﷺ یقیناً رحمت للعالمین ہیں، ہم محروم نصیبوں اور ناکامانِ قسمت سے آپ کیسے تغافل فرما سکتے ہیں۔
ز خاک اے لالہ سیراب برخیز
چو نرگس خواب چند از خواب برخیز
ترجمہ: اے لالۂ خوش رنگ! اپنی شادابی و سیرابی سے عالم کو مستفید فرمائیے اور خوابِ نرگس سے بیدار ہو کر ہم محتاجانِ ہدایت کے قلوب کو منور فرمائیے۔
بروں آور سر از بردِ یمانی
کہ روئے تست صبحِ زندگانی
ترجمہ: اپنے سرِ مبارک کو یمنی چادروں کے کفن سے باہر نکالیے کیونکہ آپ ﷺ کا روئے انور صبحِ زندگانی ہے۔ (تبلیغی نصاب، فضائلِ درود شریف، صفحہ 132، 134، 135)
حضرت مولانا عبدالرحمن جامی کا نعتیہ کلام اگرچہ عشقِ رسول ﷺ کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن نثر میں بھی انہوں نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ پر آپ کی جامع کتاب شواہد النبو ہے، جس کا ہر لفظ، ہر حرف اور ہر جملہ آپ کے عشقِ رسول ﷺ کا عکاس ہے۔
عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جائے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا ذکرِ خیر بھی دلنشیں انداز میں کیا گیا ہے۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپ کی کتاب بارہ امام سے بھی ہوتا ہے۔
آپ فرماتے ہیں:
تنم فرسودہ جاں پارہ ز ہجراں یا رسول اللہ
دلم پژمردہ آوارہ ز عصیاں یا رسول اللہ
ترجمہ: یا رسول اللہ ﷺ! میرا جسم آپ کی جدائی میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، میرا دل گناہوں کے بوجھ سے مرجھا کر بھٹک رہا ہے۔
ز کردۂ خویش حیرانم، سیاہ شد روزِ عصیانم
پشیمانم پشیمانم پشیماں یا رسول اللہ
ترجمہ: روزِ قیامت میرا نامۂ اعمال گناہوں کی بہتات سے سیاہ ہو گا۔ یا رسول اللہ ﷺ! میں انتہائی پشیمان، انتہائی پشیمان اور سخت شرمندہ ہوں۔
ز جامِ حب تو مستم، بہ زنجیرِ تو دل بستم
نمی گویم کہ من ہستم سخنداں یا رسول اللہ
ترجمہ: میں آپ ﷺ کی محبت میں مست ہوں اور آپ کے عشق کی زنجیروں سے میرا دل بندھا ہوا ہے۔ میں عاجز و مسکین یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں کوئی بہت بڑا شاعر ہوں۔
چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گناہگاراں
مکن محروم جامی را در آں یا رسول اللہ
ترجمہ: اے اللہ کے پیارے نبی ﷺ! جب روزِ قیامت آپ اپنی شفاعت کا بازو گناہگاروں کے سروں پر پھیلا دیں گے، تب اس مشکل اور نازک گھڑی میں اس عاجز جامی کو محروم نہ رکھیے گا۔
شعر کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی آپ کی کتب کی ایک طویل فہرست ہے جس میں آپ نے اپنے علم و فضل کا اظہار فرمایا، لیکن آپ کی تمام کتابوں کا لفظ لفظ عشقِ رسول ﷺ سے مالامال ہے اور محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جس چیز سے محبت ہو اس کا ذکر والہانہ انداز میں کیا جائے۔
مولانا عبدالرحمن جامی کی وفات بروز جمعہ 18 محرم الحرام 898 ہجری، بمطابق 14 نومبر 1492ء، 80 سال کی عمر میں ہوئی۔ آپ کا مزار ہرات شہر میں واقع ہے۔