کراچی/اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، جس کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مذاکرات میں اہم معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر پیٹرولیم پرویز علی ملک، وزیر پورٹ اینڈ شپنگ اور وزارت خزانہ کے نمائندے شریک ہوئے، جبکہ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی نمائندگی صدر ملک شہزاد اعوان سمیت اتحاد کے رہنماؤں چوہدری قمر زمان گل، ملک شبر خان، نثار حسین جعفری، امداد حسین نقوی اور چوہدری اویس نے کی۔
مذاکرات کے دوران گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات اور انہیں درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت کی گئی، تاہم فریقین کے درمیان اہم معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا اور مذاکرات کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔
مذاکرات کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے باوجود وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ ڈیڈ لاک برقرار ہے اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر تاحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے، جس کے باعث احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ٹرانسپورٹرز کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج ختم نہیں ہوگا اور ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت کے نمائندگان کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے، تاہم بات چیت کے بعد بھی ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان اہم معاملات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود عملی طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز اپنے حقوق اور جائز مطالبات کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ملک شہزاد اعوان نے واضح کیا کہ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے، تاہم مطالبات کے حوالے سے واضح اور عملی پیش رفت ضروری ہے۔ حکومت کو ٹرانسپورٹرز کے مسائل کا فوری اور مستقل حل نکالنا ہوگا، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹرز کا احتجاج اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
دریں اثنا آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان کی جانب سے پرامن ہڑتال کی کال پر پورٹ قاسم پر موجود تمام ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت روک دی۔
پورٹ قاسم پر موجود ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم ہونے تک پرامن ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔ ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ ہڑتال ختم کرکے مال بردار گاڑیوں کی معمول کی سرگرمیاں بحال کی جاسکیں۔