ریت کے ٹیلوں سے سبزہ زار تک، غازی یونیورسٹی کا خواب

ریگزار سے سبزہ زار، غازی یونیورسٹی کا انقلابی سفر
تحریر ۔ سید نذیر شاہ

ڈیرہ غازی خان کے لوگ ہمیشہ سے بہت محنتی اور صابر رہے ہیں، لیکن طویل عرصے تک پسماندہ رہنے کی وجہ سے یہ علاقہ تعلیم اور معیشت کے معاملے میں پیچھے رہا ہے۔ ایسے میں غازی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چھٹہ ایک مخلص اور دردمند سربراہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کا مقصد یونیورسٹی کو محض ڈگریاں بانٹنے کی روایتی فیکٹری بنانے کے بجائے ریت کے بنجر ٹیلوں پر علم کے دیے جلانا اور پرانی پسماندگی کا خاتمہ کرنا ہے۔ وہ اس علاقے کے مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ان کا خواب ہے کہ غازی یونیورسٹی وسیب کے غریب کسانوں اور بھیڑ بکریاں پالنے والے گھرانوں میں خوشحالی لائے، نوجوانوں کو علم کے ساتھ روزگار اور عزت بخشے، اور یہاں کے لوگوں کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لائے۔ اسی بہترین اور عملی سوچ کا نتیجہ غازی یونیورسٹی کے نئے کیمپس میں ‘ریگزار سے سبزہ زار’ کی صورت میں سامنے آیا ہے، جو یہاں کے رہنے والوں کے دلوں میں ایک روشن، خوشحال اور سرسبز مستقبل کی خوبصورت امید جگا رہا ہے۔

اس تناظر میں، 14 اگست 2026ء کی شام ڈیرہ غازی خان کے نئے کیمپس میں "ریگزار سے سبزہ زار” کے عنوان سے منعقدہ تقریب محض جشنِ آزادی کی ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے روشن خواب کی عملی تصویر تھی جس میں ریگستانی زمین پر ہریالی، محرومی کے ماحول میں علم، اور پسماندگی کے درمیان معاشی خودمختاری کے واضح امکانات دکھائی دے رہے تھے۔ اس موقع پر ڈیرہ غازی خان کے اعلیٰ افسران اور صحافیوں کو جشنِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ غازی یونیورسٹی کے ترقیاتی منصوبوں کا مطالعاتی دورہ بھی کرایا گیا۔ اس پروقار تقریب میں کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری، آر پی او محمد اظہر اکرم، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صادق خان بلوچ، یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف، اساتذہ، شعراء، ادیبوں، اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ یوں یہ اجتماع محض ایک رسمی سرگرمی تک محدود نہیں رہا، بلکہ علمی، ثقافتی اور سماجی رنگوں سے بھرپور ایک یادگار شام میں تبدیل ہو گیا۔

تقریب میں نظامت اور میزبانی کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر ارشد منیر لغاری نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد طالب علم راحیل نے ملی نغموں پر مشتمل پرتاثیر پیشکش کی جسے حاضرین نے بھرپور انداز میں سراہا۔ قومی پرچموں کی بہار، تالیوں کی گونج اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں نے ماحول کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ اس شام کا ایک خوب صورت پہلو سرائیکی وسیب کی ثقافت کو نمایاں مقام دینا بھی تھا۔ سرائیکی شاعر سئیں عزیز شاہد نے اپنے کلام کے ذریعے ڈیرہ غازی خان کی مٹی، کوہِ سلیمان اور وسیب کے مکینوں کی امیدوں اور جذبات کی ترجمانی کی، جبکہ روایتی رقص جھومر اور لوک موسیقی نے ثابت کیا کہ قومی یومِ آزادی کا حقیقی حسن مقامی ثقافتی اور تہذیبی شناخت کو قومی منظرنامے پر عزت دینے ہی سے مکمل ہوتا ہے۔ یوں جشنِ آزادی کے قومی جذبے کے ساتھ وسیب کی ثقافتی شناخت بھی پوری آب و تاب سے سامنے آئی۔

تقریب کا مرکزی اور فکری حصہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چھٹہ کا خطاب تھا، جس میں انہوں نے آزادی کی نعمت اور اس کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ غازی یونیورسٹی کے مستقبل کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔ ان کے وژن کے مطابق یونیورسٹی کو محض چار دیواری اور ڈگریوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایسا علمی اور معاشی مرکز بنانا مقصود ہے جو مقامی آبادی کو بااختیار بنانے، غربت میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔ ان کے نزدیک جدید تعلیمی ادارے کی ذمہ داری صرف کتابی علم کی فراہمی نہیں بلکہ تحقیق کو عملی زندگی سے جوڑنا بھی ہے۔ جنوبی پنجاب جیسے وسیع اور وسائل رکھنے والے خطے میں اگر اعلیٰ تعلیم کو زراعت، لائیو اسٹاک، ماحولیات اور مقامی صنعت سے مربوط کیا جائے تو نوجوانوں کے لیے ترقی اور روزگار کے نئے راستے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اسی وژن کا سب سے نمایاں عملی پہلو غازی یونیورسٹی کے 900 ایکڑ بنجر رقبے کی زرعی بحالی ہے۔ یہ زمین ماضی میں ریت کے ٹیلوں اور بنجر پن کا نمونہ تھی، تاہم تقریباً ایک سال کی مدت میں اسے ہموار کر کے نہری پانی کی فراہمی کے لیے زیرِ زمین جدید پائپ لائنیں بچھائی گئی ہیں۔ 100 ایکڑ سے زائد رقبے پر مالٹا، سنگترہ، انگور، انار اور کھجور کے باغات قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ موجودہ سیزن میں 300 ایکڑ پر کینولا اور مزید 300 ایکڑ پر گندم کاشت کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کی اہمیت صرف فصلوں کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ یہ طلبہ کے لیے عملی زرعی تعلیم، مٹی کی جانچ، آبپاشی کے جدید طریقوں اور پیداواری تجربات کا ایک وسیع میدان بھی بن سکتا ہے۔ اسی تسلسل میں کوہِ سلیمان کے دامن سے جڑے اس خطے میں 150 ایکڑ پر زیتون کی کاشت کا منصوبہ بھی جاری ہے، جس کا مقصد ڈیرہ غازی خان کو مستقبل میں زیتون کی پیداوار کے ایک اہم مرکز کے طور پر متعارف کرانا ہے۔ پودوں کی نگہداشت، پیداوار، تیل نکالنے اور مارکیٹنگ کے مراحل کو تحقیق سے جوڑ کر اس منصوبے کے فوائد یونیورسٹی کی حدود سے نکل کر مقامی کاشت کاروں تک پہنچانے کی گنجائش موجود ہے۔

ماحولیاتی بہتری بھی اسی ترقیاتی سوچ کا اہم حصہ ہے۔ ’’گرین ڈی جی خان‘‘ پروگرام کے تحت یونیورسٹی کی چار کلومیٹر طویل باؤنڈری وال کے ساتھ صرف دس دنوں میں 15 ہزار سے زائد تناور اور سایہ دار درخت لگائے گئے ہیں، جن میں نیم، سریں اور املتاس شامل ہیں۔ ڈیرہ غازی خان جیسے گرم علاقے میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی یہ سرگرمی کیمپس کے ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ مقامی مائیکرو کلائمیٹ پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی اصل کامیابی درخت لگانے کے بعد ان کی مسلسل نگہداشت، مناسب پانی کی فراہمی اور طویل مدتی بقا سے وابستہ ہوگی۔ اگر یہ شجرکاری مستقل بنیادوں پر برقرار رہتی ہے تو آنے والے برسوں میں یہ کیمپس کے لیے ایک قیمتی ماحولیاتی اثاثہ بن سکتی ہے اور علاقے میں سبزہ بڑھانے کی ایک عملی مثال بھی فراہم کر سکتی ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چھٹہ کے ترقیاتی وژن میں لائیو اسٹاک کے شعبے کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ ڈیرہ غازی خان کے دیہی علاقوں میں مویشی، بھیڑیں اور بکریاں ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔ تاہم مقامی مویشی پالنے والے غیر منظم منڈی، محدود سہولتوں کے باعث اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اسی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے غازی یونیورسٹی کی جانب سے 600 ایکڑ رقبے پر جدید چراگاہیں اور پینے کے پانی کے تالاب قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یونیورسٹی کو ’’نالج پارٹنر‘‘ کے طور پر عالمی معیار کے حلال گوشت کی پروسیسنگ کے نظام سے منسلک کرنے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں فوڈ سیفٹی کے عالمی اصول، جانوروں کی ٹریسیبلٹی اور جدید کولڈ چین کا نظام شامل ہوگا۔ منصوبے کا مقصد ڈیرہ غازی خان سے معیاری حلال گوشت کو خلیجی ممالک سمیت عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے، جس سے مقامی مویشی پالنے والوں کی آمدن میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس پورے عمل میں طلبہ کو لائیو اسٹاک مینجمنٹ، جانوروں کی صحت، فوڈ سیفٹی، گوشت کی پروسیسنگ اور برآمدی تقاضوں کے حوالے سے عملی تربیت کے مواقع بھی میسر آئیں گے، یوں یونیورسٹی کا یہ منصوبہ تعلیم، تحقیق اور مقامی معیشت کو ایک ہی نظام میں جوڑنے کی عملی کوشش بن سکتا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چھٹہ اور ان کی ٹیم نے 30 نومبر 2026ء تک کیمپس کی تمام 40 عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ زراعت، باغات اور لائیو اسٹاک کے منصوبے مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے یونیورسٹی کی ڈیجیٹل تبدیلی بھی اس جامع وژن کا اہم حصہ ہے۔ غازی یونیورسٹی نے اپنے انتظامی، مالی اور تعلیمی امور کو جدید ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر کے پیپر لیس انتظام کی جانب پیش رفت کی ہے۔ اس نوعیت کا نظام محض کاغذی کارروائی کم کرنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ مالیاتی نظم و ضبط، ریکارڈ مینجمنٹ، انتظامی شفافیت، طلبہ کی سہولت اور بڑے منصوبوں کی نگرانی کو بھی مؤثر بنا سکتا ہے۔ اگر ڈیجیٹل نظام کو مسلسل اپ ڈیٹ، مؤثر نگرانی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ساتھ چلایا جائے تو یہ یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے کو زیادہ تیز، شفاف اور جواب دہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

14 اگست کی یہ شاندار تقریب یومِ آزادی کے قومی تصور کو مقامی معاشی، تعلیمی اور سماجی ترقی کے ساتھ جوڑنے کا ایک منفرد اور تاریخی موقع ثابت ہوئی۔ آزادی صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے سنوارنے اور نکھارنے کا ایک عہد بھی ہے۔ "ریگزار سے سبزہ زار” اسی بلند سوچ کی ایک جامع تصویر ہے، جہاں بنجر زمین کو زرخیز پیداوار سے، زراعت کو جدید سائنس سے، لائیو اسٹاک کو عالمی منڈی سے، تعلیم کو عملی روزگار سے اور مقامی ثقافت کو عزت و بقا سے جوڑنے کی عملی کوشش کی جا رہی اگر یہ انقلابی منصوبے حکومتی ترجیحات، مسلسل نگرانی، سائنسی تحقیق اور مقامی آبادی کی بھرپور شمولیت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے، تو نئے کیمپس کا یہ ریگزار یقیناً ایک ایسے سبزہ زار میں تبدیل ہو جائے گا، جو نہ صرف غازی یونیورسٹی بلکہ پورے سرائیکی وسیب کے لیے ترقی، خودکفالت اور امید کی ایک روشن اور لازوال علامت ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے