محمد پرویش شاھین ,

محمد پرویش شاہین: عہدِ حاضر کی فکری و ادبی کہکشاں
تحریر: منورشاہ منور

کچھ لوگ کتابیں لکھتے ہیں، کچھ لوگ تاریخ پڑھتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی پوری زندگی کتاب، تاریخ، زبان اور تہذیب کی خدمت میں گزار دیتے ہیں۔ محمد پرویش شاہین اسی قبیل کے صاحبِ علم، محقق، مصنف، تاریخ دان اور ادبی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی قلمی زندگی کے ذریعے سوات، پختونخوا، کوہستان، پشتو زبان اور یہاں کے قدیم تہذیبی ورثے کو محفوظ کرنے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے۔

محمد پرویش شاہین 12 اکتوبر 1944ء کو ریاستِ سوات کے خوب صورت گاؤں منگلور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کے گورنمنٹ پرائمری اسکول منگلور سے حاصل کی۔ علم سے یہ ابتدائی شغف آگے چل کر ایک ایسی علمی مسافت میں تبدیل ہوا جس کے راستے زبان، ادب، تاریخ، ثقافت، آثارِ قدیمہ، لوک ادب، ماحولیات اور سیاحت تک پھیلتے چلے گئے۔

تعلیم کے میدان میں بھی محمد پرویش شاہین نے اپنی غیر معمولی علمی استعداد کا ثبوت دیا۔ انہوں نے پشتو، تاریخ، اردو اور تعلیم میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی علمی قابلیت کے اعتراف میں جامعہ پشاور کی جانب سے انہیں گولڈ میڈل بھی عطا کیا گیا۔ یہ اعزاز محض ایک تمغہ نہیں بلکہ ان کے علمی سفر کی محنت، لگن اور قابلیت کا اعتراف تھا۔

عملی زندگی میں انہوں نے شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہتے ہوئے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول پشاور میں بطور پرنسپل اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور گریڈ 19 میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ تاہم سرکاری ملازمت کا اختتام ان کے علمی سفر کا اختتام نہیں تھا؛ بلکہ شاید یہ ان کے قلمی اور تحقیقی سفر کا ایک نیا باب تھا۔

محمد پرویش شاہین کا قلمی سفر بھی کم قابلِ ذکر نہیں۔ انہوں نے 1958ء میں روزنامہ شہباز پشاور کے لیے مضامین لکھنے سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں جب ذرائع ابلاغ محدود تھے اور قلم کو معاشرے میں تبدیلی اور شعور کا اہم وسیلہ سمجھا جاتا تھا، ایک نوجوان کا تحقیق اور تحریر کی طرف متوجہ ہونا اپنے اندر ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔

وقت گزرتا گیا اور ان کا قلم مزید پختہ، موضوعات مزید وسیع اور تحقیق کا دائرہ مزید گہرا ہوتا گیا۔ ان کے ایک ہزار سے زائد مضامین اور تقریباً پانچ سو کالمز مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ 1980ء کے بعد انہوں نے بین الاقوامی جرائد کے لیے بھی تحقیقی مضامین تحریر کیے۔ یوں ان کی تحریر نے مقامی حدود سے نکل کر عالمی علمی حلقوں تک رسائی حاصل کی۔

ان کی تحریروں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ محض واقعات بیان نہیں کرتیں بلکہ ان کے پس منظر میں موجود تہذیب، زبان، معاشرت اور انسانی زندگی کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف مصنف یا کالم نگار کہنا شاید ان کے علمی کام کی وسعت کو محدود کرنا ہوگا۔

محمد پرویش شاہین کی علمی شخصیت کا ایک اہم پہلو پشتو زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات ہیں۔ انہوں نے پشتو میں متعدد کتابیں تحریر کیں جن میں زبان، تاریخ، سوات، پختون معاشرہ، لوک ادب، شخصیات اور ثقافتی ورثے جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔

ان کی پشتو تصانیف میں د پختونخوا او کوہستاني ژبو لساني تړون، د سوات ګلونه، د پښتونخواه ګلونه، ګل وريني سوکي، د پښتنو ژوند ژواک، سوات د سردرو وطن، پښتانه او شلمه پېړۍ، د پښتنو لیک دود تاریخ، د سوات منظوم تاریخونه، د پښتو ژبې اصل نسل، اقبال او پښتانه، پښتو په سوات کې، د سوات تاریخ د ټپو په رڼا کې، د سوات تاریخ د متلونو په رڼا کې، د مورنیو ژبو ورځ، ورکیدونکې ژبې، حافظ الپوري اور سیدو بابا شامل ہیں۔

ان کتابوں کے عنوانات ہی اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کا مطالعہ صرف ادبیات تک محدود نہیں بلکہ زبان، تاریخ اور معاشرت کے باہمی رشتوں تک پھیلا ہوا ہے۔

اردو زبان میں بھی محمد پرویش شاہین نے ایک وسیع علمی ذخیرہ چھوڑا ہے۔ ان کی اردو تصانیف میں پشتو اور کوہستانی زبانوں کا لسانی رابطہ، مشرق کا سوئٹزر لینڈ، اباسین کوہستان، کافرستان، کالام کوہستان، کالام سے کافرستان تک، سوات کوہستان، وادی سوات، چترال، کافرستان کے رسم و رواج، دیر کوہستان، کافرستان کا جائزہ، مہاتما گوتم بدھ سوات میں، مظفر آباد سے شاردا تک، کوہستان کی معدوم ہونے والی زبانیں، کاغان سے ناران تک اور بچوں کی کہانیاں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ غذر کا نسلی اور لسانی جائزہ، سوات کوہستان کا نسلی، لسانی اور ثقافتی جائزہ، دیر کوہستان کا نسلی، لسانی، ثقافتی اور سیاحتی جائزہ، قدیم پختونخوا کا علمی جائزہ، شاہانِ سوات، سوات کے قدیم سواتی پشتون، کوہستان کا نسلی، لسانی، ثقافتی اور سیاحتی جائزہ، تیرات، شخوڑئ، بریکوٹ، اوڈیگرام، منگلور، فضاگٹ، مرغزار، چکدرہ، چترال کا نسلی، لسانی، ثقافتی اور سیاحتی جائزہ، سوات کے قدرتی وسائل، تاریخِ کندیا، سوات کے قدیم کتبے اور کافرستان کی پریاں بھی ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔

یہ فہرست محض کتابوں کے نام نہیں؛ یہ دراصل ایک محقق کی برسوں پر محیط علمی جستجو کے مختلف پڑاؤ ہیں۔ ان تصانیف میں پہاڑ بھی ہیں، دریا بھی؛ زبانیں بھی ہیں اور لہجے بھی؛ قدیم تہذیبیں بھی ہیں اور زندہ معاشرے بھی۔ کہیں سوات کی وادی بولتی ہے، کہیں کوہستان کے پہاڑ اپنی خاموش تاریخ سناتے ہیں، کہیں معدوم ہوتی زبانوں کی کسک محسوس ہوتی ہے اور کہیں لوک روایتوں میں صدیوں پرانا انسانی حافظہ محفوظ نظر آتا ہے۔

محمد پرویش شاہین کی تحقیقی دلچسپیاں غیر معمولی طور پر وسیع ہیں۔ ان کے تحقیقی میدانوں میں پشتو زبان و ادب، اردو زبان و ادب، گندھارا تہذیب، بدھ مت، صحافت، ماحولیات و ایکولوجی، سیاحت، لوک ادب اور قدیم تاریخ شامل ہیں۔

یہ موضوعات بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، لیکن شاہین صاحب کے ہاں یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زبان سے تاریخ کا راستہ نکلتا ہے، تاریخ سے تہذیب کا، تہذیب سے لوک روایت کا اور لوک روایت سے کسی خطے کے اجتماعی حافظے کا۔ یہی جامع نقطۂ نظر ان کی تحقیق کو منفرد بناتا ہے۔

اسلام آباد کے لوک ورثہ کے ساتھ بطور ریسرچ اسکالر ان کی وابستگی بھی اسی علمی مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ لوک ورثہ دراصل کسی قوم کے اس اجتماعی حافظے کا نام ہے جو کتابوں سے زیادہ لوگوں کی زبان، داستانوں، رسم و رواج، گیتوں اور روزمرہ زندگی میں محفوظ رہتا ہے۔ شاہین صاحب نے اسی غیر تحریری تاریخ کو بھی اپنے تحقیقی سفر کا حصہ بنایا۔

محمد پرویش شاہین کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں حوالہ شاید سوات ہے۔ سوات ان کے لیے محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی وجود ہے۔ اس کے پہاڑ، دریا، وادیاں، آثار، زبانیں، لوک روایات، قدیم بستیاں اور تاریخی شخصیات ان کی تحریروں میں بار بار جلوہ گر ہوتی ہیں۔

ان کی تصانیف میں منگلور، بریکوٹ، اوڈیگرام، فضاگٹ، مرغزار اور چکدرہ جیسے مقامات کا ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے تاریخ کو صرف بڑے شہروں اور مشہور بادشاہوں کی داستان نہیں سمجھا، بلکہ مقامی آبادیوں، چھوٹے قصبوں اور گم نام گوشوں کو بھی تاریخ کا حصہ قرار دیا۔

یہی وہ انداز ہے جو ایک محقق کو محض مصنف سے ممتاز کرتا ہے۔ مصنف کہانی لکھ سکتا ہے، مگر محقق ان گوشوں میں بھی روشنی تلاش کرتا ہے جہاں عام نگاہ نہیں پہنچتی۔

شاہین صاحب کی تحقیق میں معدوم ہوتی زبانوں کا موضوع خاص اہمیت رکھتا ہے۔ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی؛ زبان کے ساتھ ایک قوم کی یادداشت، روایات، سوچنے کا انداز اور صدیوں کا تہذیبی تجربہ وابستہ ہوتا ہے۔ جب کوئی زبان معدوم ہوتی ہے تو صرف الفاظ ختم نہیں ہوتے، ایک پوری دنیا خاموش ہوجاتی ہے۔

اسی احساس کے تحت انہوں نے کوہستان اور پختونخوا کی مختلف زبانوں، ان کے باہمی لسانی روابط اور ان کے ثقافتی پس منظر پر تحقیق کی۔ ان کی کتابیں اس اعتبار سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ان کی علمی دلچسپی کا دائرہ صرف مقامی تاریخ تک محدود نہیں۔ اقبال اور پختون، مہاتما گوتم بدھ سوات میں، گندھارا کلچر اور قدیم پختونخوا جیسے موضوعات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ ماضی کو مختلف تہذیبی اور فکری زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوات کی سرزمین بدھ مت اور گندھارا تہذیب کے حوالے سے غیر معمولی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ اس خطے کی تہذیبی پرتوں کو سمجھنے کے لیے آثارِ قدیمہ، مقامی روایات، زبان، تاریخ اور جغرافیہ—سب کو ایک ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ شاہین صاحب کی تحقیق اسی ہمہ گیر مطالعے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

محمد پرویش شاہین کی زندگی کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہ کہنا کافی ہوگا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے قلم کے ذریعے اپنے خطے کی یادداشت محفوظ کرنے میں صرف کیے۔

1958ء میں صحافت کا آغاز کرنے والے اس قلم کار نے وقت کے ساتھ خود کو محض کالم نویس تک محدود نہیں رکھا، بلکہ محقق، مصنف، تاریخ دان، ماہرِ لسانیات اور ثقافتی دستاویز نگار کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی تصانیف کی وسعت اور موضوعات کا تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا قلم ایک ہی راستے پر نہیں چلا بلکہ جہاں کہیں تاریخ نے کوئی بھولا ہوا ورق چھوڑا، جہاں کسی زبان کے مٹنے کا خدشہ محسوس ہوا، جہاں کسی وادی کی تہذیب نے اپنی داستان سنانے کی کوشش کی، وہاں ان کا قلم پہنچا۔

ان کی دو کتابوں کا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور CSS کے نصاب میں شامل ہونا بھی ان کی علمی کاوشوں کے اعتراف کی ایک اہم مثال ہے۔

محمد پرویش شاہین کی شخصیت ایک ایسے شجر کی مانند ہے جس کی جڑیں سوات کی مٹی میں پیوست ہیں، شاخیں پختونخوا کی وادیوں تک پھیلی ہیں اور جس کے سائے میں زبان، ادب، تاریخ، ثقافت اور تحقیق کے کئی رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا اصل سرمایہ صرف ان کی لکھی ہوئی کتابیں نہیں بلکہ وہ علمی شعور ہے جو انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔

تاریخ بادشاہوں سے بنتی ضرور ہے، مگر اسے محفوظ محققین کرتے ہیں۔ زبانیں قوموں کو پہچان دیتی ہیں، مگر انہیں زندہ رکھنے والے اہلِ قلم ہوتے ہیں۔ اور تہذیبیں وقت کی گرد میں چھپ ضرور جاتی ہیں، مگر ایسے لوگ ان پر جمی گرد ہٹا کر انہیں دوبارہ دنیا کے سامنے لے آتے ہیں۔ محمد پرویش شاہین بھی انہی اہلِ قلم میں ایک نمایاں نام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے