اسلام آباد / تہران / واشنگٹن (کیو این این ورلڈ)گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ غیر حتمی امن مذاکرات کے بعد ایرانی مذاکراتی وفد کو اسرائیلی حملے کے خدشے کے پیش نظر پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے سکیورٹی حصار میں ایران واپس پہنچایا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ اسرائیل ان کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ کے تقریباً دو درجن جنگی طیارے، جن میں جدید جے-10 سی طیارے بھی شامل تھے، اور ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے اسلام آباد سے ایران تک وفد کو مکمل فضائی تحفظ فراہم کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ ایک بڑا آپریشن تھا جس میں پاکستانی طیاروں نے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ وفد کو ایران تک پہنچایا۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق، مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایرانی وفد کو خدشہ تھا کہ حالات سازگار نہیں رہے اور انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق، اگرچہ ایرانی وفد نے سکیورٹی کی باقاعدہ درخواست نہیں کی تھی، لیکن انہوں نے اسرائیل کی جانب سے حملے کے امکان کو رد بھی نہیں کیا، جس کے بعد پاکستان نے سکیورٹی فراہم کرنے پر زور دیا۔ سفارت کار نے مزید بتایا کہ ایرانی وفد کے طیارے نے تہران میں لینڈ نہیں کیا اور یہ واضح نہیں کہ انہیں کس مقام پر اتارا گیا۔
ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں بھی اگر ایرانی وفد درخواست کرے گا تو اسی نوعیت کی سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے، بصورت دیگر پاکستانی فضائیہ اپنی فضائی حدود میں ان کا استقبال کرے گی۔