ایٹمی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کے خلیجی ممالک معترف، کویت اور اسلام آباد میں دفاعی و سرمایہ کاری معاہدہ متوقع

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان توانائی کے شعبے میں تعاون اور بھاری سرمایہ کاری کے بدلے خلیجی ملک کویت کے ساتھ ایک وسیع تر دفاعی معاہدے کے لیے اہم مذاکرات کر رہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے "رائٹرز” نے مذاکرات کی براہِ راست معلومات رکھنے والے پانچ بااعتماد ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کویت پاکستان کے ساتھ اپنے عسکری و دفاعی تعاون کو نمایاں طور پر بڑھانے کا شدید خواہاں ہے۔ کویت اس سلسلے میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں سے موجود دفاعی تعاون اور پچھلے سال دستخط کیے گئے مشترکہ دفاعی معاہدے جیسے ماڈل سے ہی استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جن اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں فوجی تربیت، مشترکہ جنگی مشقیں، دفاعی مہارت، تکنیکی تعاون، اعلیٰ سطح کے عسکری وفود کا تبادلہ اور اسٹریٹجک سلامتی کے امور پر قریبی رابطہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان پہلے سے ہی روایتی دفاعی روابط موجود ہیں، تاہم اب کویت اسے مزید وسعت دے کر ایک باقاعدہ فعال فریم ورک میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ پچھلے سال پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے کے بعد خلیج کے کئی دیگر ممالک نے بھی پاکستان سے اسی نوعیت کے مطالبات کے ساتھ رابطے شروع کر دیے ہیں، تاہم اب تک کویت یا پاکستان کی جانب سے اس نئے مجوزہ منصوبے کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں بڑھتی ہوئی اس دلچسپی کے تناظر میں لندن کے مشہور تحقیقی ادارے ‘انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز’ (IISS) نے نیوکلیئر پاور پاکستان کی عسکری قوت اور ہتھیاروں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق، فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان اس وقت چین، بھارت اور شمالی کوریا کے بعد پورے ایشیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن چکا ہے۔ پاکستان کے پاس 6 لاکھ 60 ہزار فعال ترین عسکری اہلکار موجود ہیں، جن میں سے 5 لاکھ 60 ہزار باقاعدہ فوج (آرمی)، 70 ہزار پاک فضائیہ (ایئر فورس) اور 30 ہزار پاک بحریہ (نیوی) کا حصہ ہیں، جس میں 3 ہزار 200 میرینز بھی شامل ہیں۔

دفاعی ہتھیاروں کی تفصیلات کے مطابق، پاکستان کی زمینی فوج کے پاس 4 ہزار 600 سے زائد توپ خانے (آرٹلری) اور 2 ہزار 570 سے زیادہ جدید ترین جنگی ٹینکوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اسی طرح پاک فضائیہ کے پاس جنگی صلاحیت سے لیس 420 سے زائد طیاروں کا ایک بڑا بیڑا موجود ہے، جس میں امریکی ساختہ ایف-16، چینی جے-10 سی اور جے ایف-17 تھنڈر جیسے مہلک طیارے فضائی حدود کی نگرانی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان کی بحریہ بھی آٹھ جدید آبدوزوں اور بارہ بحری جنگی جہازوں (فریگیٹس) کے ساتھ سمندری حدود کی حفاظت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان زمین سے زمین اور فضا سے فضا میں دور تک مار کرنے والے میزائل داغنے کی جدید ترین صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایک محتاط بین الاقوامی اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 170 ایٹمی وار ہیڈز کا ناقابلِ تسخیر دفاعی ذخیرہ موجود ہے، جو خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان پر بھروسے کی بنیادی وجہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے