ڈیرہ غازی خان (بیورورپورٹ) بلوچستان سے پنجاب منشیات اسمگلنگ کی ایک اور بڑی کوشش ناکام ہونے کے بعد بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کی کارکردگی ایک مرتبہ پھر کٹہرے میں آ گئی۔ حیران کن طور پر بھاری مقدار میں منشیات بی ایم پی کی حدود میں قائم چار چیک پوسٹیں عبور کرنے کے باوجود نہ روکی جا سکی، جبکہ پنجاب پولیس کے تھانہ سخی سرور نے کارروائی کرتے ہوئے دو مختلف ملزمان کو گرفتار کرکے 3 کلوگرام کرسٹل آئس اور 40 کلوگرام اعلیٰ معیار کی چرس برآمد کر لی۔
پولیس کے مطابق ضلع زیارت کے رہائشی اعجاز احمد سے 3 کلوگرام آئس جبکہ ضلع کوہلو کے رہائشی اخلاق سے 40 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ دونوں ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاکہ اسمگلنگ نیٹ ورک اور اس کے سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔
یہ کارروائی اس لیے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے کہ برآمد ہونے والی منشیات بلوچستان سے پنجاب پہنچنے سے قبل بی ایم پی کی حدود میں قائم چار چیک پوسٹیں عبور کر چکی تھی، جس نے سرحدی نگرانی کے نظام کی مؤثریت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بی ایم پی کی بعض چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں اور منشیات اسمگلروں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث اسمگلنگ کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، جبکہ بار بار انہی ملازمین، دفعداروں اور نائب دفعداروں (ایس ایچ اوز) کی تعیناتی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
بی ایم پی کی حدود میں منشیات اسمگلروں کے مضبوط نیٹ ورک کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں ایک حاضر سروس بی ایم پی ایس ایچ او (جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں) کے بیٹے کو بھی پنجاب پولیس نے منشیات سپلائی کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ اس واقعے کے باوجود مؤثر احتساب نہ ہونے پر اسمگلنگ کا سلسلہ برقرار رہا۔
دوسری جانب ایس ایچ او تھانہ سخی سرور عرفان مصطفیٰ نے کہا ہے کہ منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور بین الصوبائی راستوں پر نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے۔