تہران/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ)آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نیوی کے ایک ڈسٹرائر جہاز کو میزائل وارننگ کے بعد پسپائی اختیار کرنا پڑی، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بحیرۂ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک امریکی ڈسٹرائر نے وارننگ کے باوجود آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کی اور مبینہ طور پر ریڈار سسٹمز بند کر کے خفیہ انداز میں پیش قدمی کی، جسے خطے کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق ریڈیو کے ذریعے بارہا خبردار کرنے کے باوجود امریکی جہاز نے سمت تبدیل نہ کی، جس پر ایرانی بحریہ نے کروز میزائل، راکٹس اور جنگی ڈرونز کے ذریعے “وارننگ شاٹس” فائر کیے۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے بعد امریکی جہاز نے سفر روک کر پسپائی اختیار کر لی۔ ایران نے اس اقدام کو دفاعی کارروائی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا اور تمام جنگی جہاز معمول کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا حامی ہے اور خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج “پروجیکٹ فریڈم” کے تحت خطے میں تعینات ہیں، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور سمندری گزرگاہ کو فعال رکھنا ہے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خلیج عرب میں موجود ہیں اور کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، جبکہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو بھی بحفاظت گزارا گیا۔
تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ گھنٹوں کے دوران کوئی بھی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا اور امریکی بیانات بے بنیاد ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اور موجودہ کشیدگی کے باعث اس اہم روٹ پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔