ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں شوگر کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی انسولین کی کولڈ چین مبینہ طور پر نظر انداز کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہسپتال کے مین میڈیسن سٹور میں انسولین کو محفوظ درجہ حرارت (2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ) میں رکھنے کے بنیادی اصولوں پر عمل نہیں کیا جا رہا، جبکہ شدید گرمی میں انسولین کی ترسیل بغیر آئس باکس یا کولڈ بیگ کے کی جا رہی ہے۔
مبینہ غفلت کے باعث فارمسی سٹاف اور متعلقہ عملے کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریضوں کو انسولین دیتے وقت اس بات کی تصدیق نہیں کی جاتی کہ ان کے پاس محفوظ کولنگ سہولت موجود ہے یا نہیں، جس کے باعث دوا کے خراب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق انسولین درجہ حرارت میں تبدیلی سے اپنی افادیت کھو سکتی ہے، اور غیر مؤثر انسولین کے استعمال سے شوگر کنٹرول متاثر ہونے کے ساتھ گردوں، دل، بینائی اور اعصابی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں کولڈ چین مانیٹرنگ سسٹم نافذ کیا جائے اور انسولین کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔
شہری حلقوں نے صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔