آزاد کشمیر میں حکومت سازی ن لیگ کا حق ہے، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دھرنا دینے والوں کے جائز مطالبات پر حکومت نظرثانی کرے گی، تاہم ہتھیار اٹھانے اور دشمن کا آلہ کار بننے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کو دھاندلی کے بیانیے کے ذریعے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرنے والوں نے اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پیپلز پارٹی کے رہنما آج الٹی گنتی کو سیدھا کردیں گے اور مسلم لیگ ن کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیں گے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دھرنا دینے والے آزاد کشمیر کے انتخابات کو روکنا چاہتے تھے، تاہم وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے دھرنا دینے والی قوتیں اب زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنا دھرنا ختم کردیں گی۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت مظاہرین کے جائز مطالبات پر نظرثانی کرے گی اور جو مطالبات قابلِ عمل اور جائز ہوئے، ان پر بات چیت کے ذریعے پیش رفت کی جائے گی، تاہم ریاستی قانون اور امن و امان کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہتھیار اٹھانے اور دشمن کا آلہ کار بننے والوں کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کے مطابق انتخابات کے تیسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا عمل شروع ہوجائے گا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے پولنگ تاخیر سے شروع ہونے اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو شکایات کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کو تاحال کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق چند مقامات پر تلخ کلامی کے واقعات پیش آئے جن پر فوری ایکشن لیا گیا، جبکہ اگر کوئی تحریری شکایت موصول ہوتی ہے تو اس پر بھی فوری کارروائی کی جائے گی۔

آزاد کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں سیاسی طور پر اہم شخصیات بھی میدان میں ہیں۔ انتخابی معرکے میں آزاد کشمیر کے دو سابق وزرائے اعظم سردار عتیق اور سردار تنویر الیاس کے علاوہ موجودہ وزیراعظم فیصل راٹھور بھی حصہ لے رہے ہیں۔

انتخابات کے حوالے سے حکومتی جماعت اور اپوزیشن کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے