تحریک انصاف کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

پشاور (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی کمیٹی کے متفقہ فیصلے کے مطابق لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور پُر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ مخالفین چاہتے ہیں کہ پارٹی کو اشتعال دلایا جائے مگر تحریک انصاف ان کے اشتعال میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانا پارٹی کی سیاسی حکمت عملی ہے۔

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کارکنوں اور ایم پی ایز کو گرفتار کیا جا رہا ہے، سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور خیبر پختونخوا کی سرحدوں پر راستے بند کر کے کیلیں گاڑھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالتیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں تو بانیِ پارٹی عمران خان آدھے گھنٹے میں رہا ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے انہیں اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا مگر اس پر اب تک عمل نہیں ہوا۔

سہیل آفریدی نے وفاقی وزرا اور حکومتی بیانیے پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے مریم نواز کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے دیگر صوبوں سے خطرے کا ذکر کیا تھا اور رانا ثناءاللہ کے خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے والے بیانات پر سوال اٹھایا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اب پنجاب پولیس بن چکی ہے اور دہشت گردوں کا بیانیہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی آئین اور قانون کی بالادستی کی ہے۔ مخالفین چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف اور اسٹبلشمنٹ آپس میں لڑتی رہیں تاکہ وہ عیاشیاں کر سکیں، جہاز اور گاڑیاں خرید سکیں۔ خیبر پختونخوا کی سرحدوں پر کیلیں گاڑھنے اور راستے بند کرنے کو صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش قرار دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ اس معاملے پر فوری ایکشن لیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے میڈیا پابندیوں، وزرا کے اغوا اور گولی چلانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جعلی دھمکیوں کے ذریعے سیکریٹریٹ اور مسجد بند کروائی گئیں حالانکہ وہ خود وہاں جا کر چہل قدمی اور نماز ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس دفعہ جب کارکن نکلیں گے تو وہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے اور کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان نئی تاریخ پر مطمئن ہیں اور پارٹی قیادت کے فیصلے کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان کے ذریعے محمود خان اچکزئی اور علامہ رانا ناصر عباس کو بھی سیاسی کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے