حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے اور اقوام متحدہ سمیت ثالثی عدالت بھی اسے مسترد کر چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش اعلانِ جنگ تصور کی جائے گی کیونکہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا اور سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کوشش کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا اور پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔

جموں و کشمیر کے تنازع پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس کا منصفانہ اور پائیدار حل خطے میں امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آٹھ دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے متعلق اپنی قراردادوں اور وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور آبادیاتی تبدیلی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

معرکہ حق کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا جس کے جواب میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں کی بدولت جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں جب دو ایٹمی پڑوسی ممالک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورتحال تک نہ پہنچے اور اس کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔

فلسطینی مسئلے پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ کئی نسلوں سے فلسطینی عوام اپنی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ غزہ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو دنیا کے کسی بھی حصے میں پیدا ہونے والے بچے کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ وزیراعظم نے لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔

شدت پسندی کے مسئلے پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کے فوری اقدامات کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں اور ان کا کھلا رہنا ناگزیر ہے۔ انہیں تصادم اور کشیدگی کے مراکز کے بجائے ممالک کو جوڑنے کا ذریعہ ہونا چاہیے اور ان سمندری راستوں کو جنگ کے خطرات کے بجائے خوشحالی و ترقی کا پیغام لے کر چلنا چاہیے۔
انہوں نے رواں سال فروری میں خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتیں متاثر ہوئیں اور اہم بحری گزرگاہیں شدید دباؤ کا شکار رہیں۔ اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری کردار ادا کیا اور سفارتی کوششوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اسلام آباد مذاکرات اور بعد ازاں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے ذریعے تنازع کے خاتمے کے لیے اہم تاریخی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر، چین سمیت دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حالیہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ حرمین شریفین کے امن، تحفظ اور تقدس کو کسی بھی قسم کا خطرہ ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ کا ضامن ہے۔ تینوں ممالک کا یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کا مظہر ہے۔ اس کا مقصد باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم میزائلوں، ڈرونز اور ہتھیاروں کی گھن گرج کے درمیان سفارت کاری اور مذاکرات کی آواز پہلے سے زیادہ مضبوط انداز میں بلند ہونی چاہیے۔ پاکستان اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ خطاب اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں پاکستان کے موقف کی مکمل عکاسی کرتا ہے جس میں علاقائی اور عالمی امن، پانی کے حقوق، کشمیر، فلسطین اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جیسے اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے