پاکستان ہمیشہ زندہ باد
تحریر ۔ سـید نـذیـر شـاہ
10 مئی 2025 کی سحرتاریخ کے ماتھے پر ہمیشہ ایک جھومر بن کر چمکتی رہےجب مخلوق ابھی خوابِ غفلت سے پوری طرح بیدار بھی نہ ہوئی تھی، ارضِ پاک کے سپہ سالار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے رب کے حضور جائے نماز پر جھکے ہوئے تھے یہ منظر بندگی اور سپہ سالاری کا ایک ایسا انوکھا ملاپ تھا جہاں ایک مومن سپاہی اپنی قوم کی فتح اور سلامتی کے لیے گڑگڑا رہا تھا۔ ان کی آنکھوں سے بہتے آنسو اور دل سے نکلنے والی دعائیں صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی آواز بن کر عرشِ الٰہی تک جا رہی تھیں۔ یہ دعائیں اس آپریشن بنیانِ مرصوص کی کامیابی کے لیے تھیں جس کی بنیاد ہی قرآنِ پاک کی اس آیت پر ہے کہ "اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر لڑتے ہیں سات مئی 2025کی تاریخ، جب بھارت نے پہلگام فالس فلیگ کی آڑ میں پاکستانی حدود میں بزدلانہ میزائل حملوں کے ذریعے آپریشن سندور کا آغاز کیا، تو شاید اسے اپنے وہم و گمان میں بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ اس کا واسطہ اس فولادی عزم اور حیدری للکار سے پڑنے والا ہے جو شکست کے لفظ سے ناآشنا ہے۔ دشمن اپنے زعمِ باطل میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ اپنی عددی برتری اور جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ارضِ پاک کے دفاعی حصار میں شگاف ڈال دے گا، مگر جواب میں چشمِ فلک نے وہ عبرت ناک منظر دیکھا جو تاریخ کے سینے پر صدیوں تک نقش رہے گا۔
وہ رافیل طیارے جس کی ہیبت کے قصے سنا کر دشمن نے اپنے عوام کو بہلایا تھا اور جن کی خریداری پر خزانے کے اربوں ڈالر لٹا دیے گئے تھے دنیا کا مہنگا ترین ایس-400 دفاعی نظام جسے بھارت اپنی ناقابلِ تسخیر ڈھال تصور کر رہا تھا، براہموس میزائل اور اسرائیلی ڈرون جو جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار کہلاتے تھے، 10 مئی کو دشمن کے یہ تمام جنگی غرور پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جھپٹ کا شکار ہو کر زمین بوس ہوئے اور خاک کا رزق بن گئے۔ آسمان سے شعلوں کی صورت گرنے والا ان کا ملبہ محض بے جان فولاد کا ڈھیر نہ تھا، بلکہ یہ ایک مغرور ریاست کے تکبر کا جنازہ تھا جو برصغیر کی ہواؤں میں بکھر رہا تھا۔ صرف روایتی میدان میں ہی نہیں، بلکہ سائبر سکیورٹی میں بھی پاکستان نے اپنی مہارت ثابت کی اور بھارت کے بجلی کے گرڈز کو مفلوج کر کے دشمن کے مواصلاتی نظام کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا -ابھی ارضِ پاک کے شاہین فضاؤں میں لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ ہی تلاش کر رہے تھے کہ اچانک فضا ایک نئی اور فیصلہ کن خبر سے گونج اٹھی یہ خبر کسی بارود کی گھن گرج نہ تھی بلکہ دشمن کی اس حتمی شکست کا اعتراف تھا جو اسے آپریشن بنیانِ مرصوص کے فولادی ہاتھوں نصیب ہوئی تھی 10 مئی کی شام ہوتے ہوتے بھارت اپنی تمام تر تزویراتی ناکامیوں اور شرمناک جنگی نقصانات کے بوجھ تلے دب کر باضابطہ طور پر جنگ بندی کی التجا کرنے پر مجبور ہو گیا۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں یہ دن عزمِ نو کی علامت بن کر ابھرا ہے، جہاں حکمتِ عملی اور ایمانی قوت کا ایک حسین سنگم دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ اس نے دشمن کے اس فریب کو پاش پاش کر دیا کہ وہ محض تکنیکی برتری کے زعم میں کسی بھی مہم جوئی میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ آپریشن بنیانِ مرصوص نے یہ ثابت کر دیا کہ دفاعِ وطن کے لیے صرف مادی ذرائع کافی نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے اس فکری اور نظریاتی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے جو پاکستان کے وجود کا خاصہ ہے۔ دشمن کی بزدلانہ چالوں کے خلاف پاکستانی سپہ سالار کی یہ جوابی کارروائی صرف ایک دفاعی اقدام نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی نئی عسکری فکر کا اظہار تھی جس نے عالمی ماہرین کو بھی ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اس آپریشن کی کامیابی اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ پاک فوج کا عزم پہاڑوں سے زیادہ بلند اور ارادہ سمندر کی موجوں سے زیادہ توانا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت افروز قیادت نے جارحانہ دفاع کے تصور کو ایک نئی اور ولولہ انگیز جہت عطا کی ہے۔ یہ معرکۂ حق آنے والے عسکری رہنماؤں کو یہ سبق سکھائے گا کہ فتح میدانِ جنگ میں ہتھیاروں کی گنتی سے نہیں، بلکہ اس جرات اور بصیرت سے کشید کی جاتی ہے جو سپہ سالار نے اس جنگ میں دکھائی کہ جب نیتوں میں خلوص اور مقصد وطن کی سربلندی ہو، تو وسائل کی ظاہری کمی کبھی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی سپہ سالار کی جنگی دانائی نے ملک کے دفاع کو اس بلند مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں آج پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ اس قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کو بھی اسی کے میدان میں شکست سے دوچار کیا۔ یہ فتح صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر اس پاکستانی کے دل کی فتح ہے جو اس سرزمین کی سلامتی کے لیے دھڑکتا ہے، اور یہ اس لازوال اتحاد کی علامت ہے جو عوام اور فوج کے درمیان ایک مضبوط رشتے کی صورت میں قائم ہے۔
معرکہِ حق و باطل میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جو تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے موڑ دیا کرتے ہیں آپریشن بنیانِ مرصوص بھی ایک ایسا ہی استعارہ ہے جو اگرچہ خاموشی اور تدبر سے شروع ہوا، مگر جس کی گونج نے دشمن کے ایوانوں میں وہ لرزہ طاری کر دیا جو شاید دہائیوں تک ختم نہ ہو سکے بے شک اس معرکہِ حق کی غیر معمولی کامیابی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور ایڈمرل نوید اشرف کے بے مثال عسکری نظم و ضبط کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آپریشن بنیانِ مرصوص کی حکمتِ عملی مستقبل میں عالمی عسکری اکیڈمیوں اور بالخصوص پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول جیسے عظیم اداروں کے دفاعی نصاب کا لازمی حصہ بنے گی۔ یہ وہ شاہکار عسکری منصوبہ بندی ہے جسے مدتوں دنیا بھر کی وار اکیڈمیز میں ایک مثالی سبق کے طور پر پڑھایا جاتا رہے گا۔ یہ محض ایک فوجی آپریشن نہیں، بلکہ جدید دور کی جنگی سائنس، نفسیاتی برتری اور کم وسائل کے باوجود دشمن کے مادی غرور کو پاش پاش کرنے کی ایک لازوال حکمتِ عملی تھی دنیا بھر کے جنگی ماہرین اور دفاعی تجزیہ کار اس حقیقت پر متفق ہیں کہ جس طرح دشمن کے جدید ترین جنگی اثاثوں کو کم ترین وقت میں ناکارہ بنا کر زمین بوس کیا گیا، وہ عسکری بصیرت اور پیشہ ورانہ مہارت کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے۔
آج آپریشن بنیانِ مرصوص کی سالگرہ کے موقع پر دشمن کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ضرور ہے اور ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں، لیکن ہماری اس امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھنا دشمن کی سب سے بڑی بھول ہوگی اپنی خود مختاری، جغرافیائی حدود اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتا ہماری لغت میں شامل نہیں ہم نے ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھا مگر جب دشمن نے ہماری سالمیت کو للکارا، تو اسے وہ جواب ملا جو رہتی دنیا تک مثال بن کر رہے گا آپریشن بنیانِ مرصوص محض ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ یہ عزم، اتحاد اور یقین کی ایک روشن علامت ہے۔ ہم اپنے شہدا کے لہو اور غازیوں کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس وطن کے دفاع کو معتبر بنایا اور ثابت کیا کہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے اور باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔ دشمن کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کا جواب دیا جائے گا اور اس کے ہر ناپاک ارادے کو وہی سیسہ پلائی دیوار روک لے گی جس کی بنیادیں ایمان اور اتحاد پر استوار ہیں۔ پاکستان کا پرچم ہمیشہ سربلند رہے گا اور اس کی محافظ افواج ہر خطرے کے سامنے اسی طرح سینہ سپر رہیں گی۔ 10 مئی کی وہ سحر جس کا آغاز سجدے سے ہوا تھا، ایک ایسی کامیابی پر منتج ہوئی جس نے ہمیشہ کے لیے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔