رینالہ خورد (نامہ نگار) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رینالہ خورد میں لیبارٹری ٹیکنیشن کے بجائے نائب قاصد کی جانب سے خاتون مریضہ کے ٹیسٹ کے لیے خون لینے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی۔ اس سے قبل بھی ہسپتال کے وارڈ میں ایک غیر متعلقہ شخص کی جانب سے مریض کو انجکشن لگانے کی ویڈیو سامنے آچکی ہے، جس کے بعد ہسپتال میں مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رینالہ خورد میں گزشتہ روز ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں ایک نائب قاصد مبینہ طور پر لیبارٹری میں خاتون کے ٹیسٹ کے لیے خون لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو میں مذکورہ شخص کو لیبارٹری کے اندر یہ عمل کرتے دیکھا جاسکتا ہے، حالانکہ لیبارٹری سے متعلق کام کے لیے تربیت یافتہ اور متعلقہ عملے کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل بھی ایک غیر متعلقہ شخص کی جانب سے ہسپتال کے وارڈ میں مریض کو انجکشن لگانے کی ویڈیو منظرعام پر آئی تھی۔ اس واقعے کے بعد اب لیبارٹری میں نائب قاصد کی جانب سے خون لینے کی ویڈیو سامنے آنے پر ہسپتال کے انتظامی معاملات اور مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں مریضوں کے علاج اور تشخیص جیسے حساس معاملات متعلقہ اور تربیت یافتہ طبی عملے کے ذریعے ہی انجام دیے جانے چاہئیں۔ ان حلقوں نے الزام عائد کیا کہ ہسپتال میں غیر متعلقہ افراد کی جانب سے طبی نوعیت کے کام کیے جانے سے مریضوں کی صحت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رینالہ خورد میں سامنے آنے والے واقعات کا نوٹس لیا جائے، ویڈیوز کی بنیاد پر حقائق کی تحقیقات کرائی جائیں اور اگر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون اور محکمانہ ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔