خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار نورحلیم آفریدی) باڑہ قبیلہ ذخہ خیل کے رہائشی افسر خان اور دیگر افراد نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 27 اگست کو ان کے مہمان اور اورکزئی سے تعلق رکھنے والے طاہر خان کو باڑہ چڑھائی سر کے مقام پر واقع صدا بہار ریسٹورنٹ سے مبینہ طور پر صادق خان اور طارق خان نے اغوا کر لیا۔
پریس کانفرنس کے دوران مقررین نے الزام عائد کیا کہ طاہر خان کے مبینہ اغوا کے بعد ان سے کبھی ایک کروڑ روپے اور کبھی 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ افسر خان نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ جن افراد پر اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے، ان کا ان کے اور ان کے مہمان طاہر خان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں تھا، تاہم ان کے اور طاہر خان کے درمیان باہمی لین دین موجود ہے۔
مقررین کے مطابق واقعے کے حوالے سے متعلقہ تھانے میں درخواست بھی جمع کرائی گئی، تاہم پولیس اور خاصہ دار فورس کے احتجاجی دھرنے کے باعث مبینہ طور پر مقدمہ درج نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ طاہر خان کی مبینہ گمشدگی کے بعد اس کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور مغوی کے بچے بھی ان کے پاس آکر اپنے والد کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے موقع پر مبینہ مغوی طاہر خان کے رشتہ دار بچے اور بچیاں بھی موجود تھے، جنہوں نے اپنے والد کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کہا کہ خاندان طاہر خان کی بحفاظت واپسی کا منتظر ہے اور متعلقہ حکام کو معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
افسر خان اور دیگر شرکاء نے ڈی پی او خیبر اور سی سی پی او پشاور سے مطالبہ کیا کہ طاہر خان کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور جن افراد کے نام مبینہ اغوا کے واقعے میں سامنے آئے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے باڑہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین نے طاہر خان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے واقعے کی شفاف تحقیقات کریں اور مغوی کی بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔