رئیس الفقراء حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا چشتی صابری
ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور
ziaulhaqsarhadi@gmail.com
جنوب مشرق ایشیا میں بالعموم اور برصغیر پاک و ہند میں بالخصوص اولیاء کرام، صوفیائے عظام اور بزرگان دین نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ طریقت کے چاروں سلاسل سے فیض یاب بزرگوں نے اس خطے میں اشاعت دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی یکتا اور واحد لاشریک ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آسمان کی خوبصورتی کے لیے ستاروں کو تخلیق کیا اور ستاروں کے جھرمٹ میں چاند کو نمایاں کیا، اسی طرح زمین کی خوبصورتی کے لیے انسانوں کو تخلیق کیا اور اشرف مخلوقات بنا کر بھیجا۔ جس طرح نظام شمسی کا متحرک ستارہ صرف اس لیے ہے کہ اپنے مدار آفتاب کا طواف کرے، اسی طرح انسانوں کے گروہ اور آبادیوں کے ہجوم میں بھی اولیاء کرام تا قیامت چمکتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے مختلف زمانوں میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ یہ سلسلہ حضور اکرم ۖ تک جاری رہا اور آخر میں حضرت محمد ۖ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر یہ سلسلہ بند کر دیا گیا کیونکہ آپ ۖ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اولیاء کرام مختلف اوقات میں تبلیغ اسلام کے لیے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک مختصر سے امتحان کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اور اسے تمام مخلوقات سے اشرف قرار دے کر ہر چیز کو اس کے تابع کر دیا ہے اور ہر طرح کی لامتناہی اور لاتعداد نعمتوں سے نوازا۔ ان تمام نوازشات کے ساتھ یہ حکم بھی ملا ہے کہ یہ سب کچھ عارضی ہے۔
انہی بزرگان دین میں پیرانِ پیر حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیری، حضرت بختیار کاکی، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر، حضرت علاؤالدین احمد صابر کلیری، حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت داتا گنج بخش، حضرت سید عثمان مرو ندی المعروف حضرت شہباز قلندر، حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی، حضرت بری امام سرکار، حضرت بو علی قلندر پانی پتی، حضرت شاہ قبول اولیاء، حضرت پیر و مرشدی پیر سید عبدالرحمان شاہ بابا چشتی صابری تمبر پورہ شریف پشاور، حضرت مولانا سید امیر شاہ گیلانی قادری المعروف مولوی جی یکہ توت شریف پشاور اور پیر و مرشدی رئیس الفقراء حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا تمبر پورہ شریف پشاور کی شب و روز محنتوں کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ برصغیر کو اولیاء کرام کی سرزمین کہا جاتا ہے جہاں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ڈیرے ہیں۔
پیر و مرشد رئیس الفقراء حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا وارد ہوئے تو ان کی آمد کے بعد اس پاک سرزمین کی کایا پلٹ گئی اور ان کی محنتوں، کوششوں کی وجہ سے غیر مذہب اپنی موت خود مر گئے اور دین اسلام کا عروج شروع ہو گیا۔
ان عظیم ہستیوں کا تذکرہ اس مختصر مضمون میں تحریر کرنا ناچیز فقیر اور خاکپائے مرشد کے بس کی بات نہیں۔ یہ میری خوش نصیبی ہے اور میرے پیر و مرشد زینت رئیس الفقراء حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا جی چشتی صابری کی مجھ پر خاص نظر کرم ہے کہ مجھے یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے کہ میں اپنے پیر مرشدی حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا جی چشتی صابری کے بارے میں کچھ تحریر کروں۔ یہ میرے پیر و مرشدی حق بابا محترم کا ہی فیض ہے کہ میں تصوف اور اہل تصوف سے گہری عقیدت رکھتا ہوں۔
اس بزرگ ہستی کا نام شیخ المشائخ حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا جی چشتی صابری ہے، جن کا شمار صاحب طریقت اور صاحب کشف بزرگوں میں ہوتا ہے۔ آپ کے دادا اور آپ کے پیرو مرشد کا اسم شریف شیخ المشائخ حضرت پیر سید عبدالرحمان شاہ بابا چشتی صابری ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب بیالیس واسطوں سے امام المتقین سید الشہداء مظلوم کربلا سیدنا امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام سے ہوتا ہوا امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب شیرِ خدا سے جا ملتا ہے، جبکہ شجرہ طریقت بھی سرتاج اولیاء حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر سے ہو کر امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے، گویا کہ آپ حسنی حسینی سید ہیں۔
آپ کے دادا حضرت پیر سید عبدالرحمان شاہ بابا چشتی صابری ولی کامل اور عارف باللہ تھے۔ عمر کا بیشتر حصہ جذب اور سلوک میں گزارہ اور حضرت سیدنا مخدوم علاؤالدین احمد صابر پیرانِ کلیر شریف کے مزار پر کافی عرصہ معتکف رہے اور عشق و مستی سے سرشار رہے۔
شیخ المشائخ پیر طریقت حضرت پیر سید مستان شاہ حق بابا چشتی صابری خانوادہ چشتیہ صابریہ تمبر پورہ شریف (جو کہ ناصر پور ریلوے اسٹیشن جی ٹی روڈ پشاور شہر سے پانچ، چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے) کے جلیل القدر بزرگ تھے جو تصوف، طریقت اور روحانیت کے اعلیٰ و ارفع مرتبہ پر فائز تھے اور اپنے وقت کے غوث الزمان اور علماء مشائخ سرحد کہلائے۔
تصوف و طریقت کی عظیم الشان دنیا میں تمبر پورہ شریف کے معتقد روحانی سلسلہ خاندان چشتیہ صابریہ کو منفرد مقام حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس خانوادے کو ایسی بے مثال برگزیدہ ہستیوں سے نوازا جنہوں نے اسلام اور شریعت کے فروغ کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے اور اپنے روحانی فیوض و کرامات کی برکت سے ایک عالم کو تصوف کی روشنی سے منور کیا۔
آپ کے دادا پیر طریقت حضرت پیر سید عبدالرحمان شاہ بابا چشتی صابری تصوف کے چار طریقوں کے عامل اور مجاز تھے۔ آپ ان چاروں طریقوں سے فیض عطا کرتے اور اکثر فرماتے کہ وہ کیسا فقیر ہے کہ ایک ہی طریقے کو چلائے، تاہم آپ مریدین کو عموماً چشتیہ سلسلہ میں بیعت کرتے۔
ابو الحسن نوری کا مشہور قول ہے کہ تصوف ایک اخلاقی شے ہے جو اللہ تعالیٰ کے اخلاق و عادات اختیار کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
تمبر پورہ شریف کی ان مبارک ہستیوں کے دست حق پرست پر ہزاروں بے دین، دولتِ ایمان سے بہرہ مند ہوئے۔ پیر مرشدی پیر حضرت سید مستان شاہ سرکار حق بابا چشتی صابری، حضرت پیر سجاد شاہ بادشاہ اور حضرت پیر عنایت شاہ بادشاہ موتیاں والی سرکار کے والد بزرگوار تھے، جنھوں نے اپنی پوری زندگی خلقِ خدا کو راہ حق دکھانے اور انہیں شریعت و طریقت کے اسرار و رموز سے آگاہ کرنے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
پیر حضرت سید مستان شاہ سرکار حق بابا چشتی صابری نے حلقہ ارادت سے منسلک افراد کی روحانی اصلاح پر ہمیشہ بھرپور توجہ دی۔ روحانیت میں آپ کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ مریدوں اور خلفاء کی زندگیاں بھی خالص اسلامی سانچے میں ڈھلی ہوئی تھیں۔ سینکڑوں لاعلاج مریضوں کو آپ کی روحانی نگاہ سے شفاء کاملہ نصیب ہوئی۔ آپ نے سلسلہ چشتیہ صابریہ کی ترویج و اشاعت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، باقاعدہ اپنے مشائخ کے اعراس پر ختم خواجگان منعقد فرماتے اور خصوصاً ہر مہینہ کی چھٹی تاریخ کو خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیری کی یاد میں محفل سماع منعقد فرماتے۔ یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔
آپ کے درباری مشہور و معروف قوال میراں بخش اور شفیع محمد پشاوری تھے جو کہ ایسی محافل کو اپنی قوالی سے آراستہ کرتے تھے۔ آپ محفل سماع اور عارفانہ کلام کو پسند فرماتے تھے کہ یہ اولیاء چشت کو محبوب ہے۔ روایت ہے کہ سماع فیضان حق ہے (کشف المحجوب) اور تمام رات صاحب ذوق حضرات ’’وجد‘‘ و ’’حال‘‘ میں مصروف رہتے اور دوران سماع میں جس شخص پر بھی آپ کی توجہ کاملہ کی نظر پڑ جاتی وہ مرغ نیم بِسمل کی طرح گھنٹوں تڑپتا رہتا۔
حضرت پیر سید مستان شاہ حق بابا چشتی کرامت ولی اللہ تھے۔ آپ کی دعائیں امر کا درجہ رکھتی تھیں اور حق تعالیٰ قبولیت کے دربار میں فوراً قبول ہو جاتی تھیں۔ آپ کی زبان مبارک سے جو الفاظ نکلتے اللہ تعالیٰ ان کی لاج رکھتا۔ آپ جو کہتے وہی ہو جاتا۔ آپ اکثر فرماتے ’’اللہ کرم کرے‘‘۔
آپ اپنے دادا گرامی مرتبت حضرت پیر سید عبدالرحمان شاہ چشتی صابری سے بیعت ہوئے، جنہوں نے حضرت صوفی محمد حسین مراد آباد شریف (بھارت) سے کسب فیض کیا تھا۔ آپ حق تعالیٰ اور رسول مقبول ۖ کے عشق حقیقی سے سرشار تھے اور آپ کی زندگی قرآن و سنت کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ہر ملنے والے کی دلجوئی فرماتے اور کسی کو خالی ہاتھ واپس نہ لوٹاتے۔
اپنے مریدین پر آپ کی نظر کرم ہر وقت رہتی۔ اگرچہ آپ روحانی تصوف کے بلند مقام پر فائز تھے لیکن آپ پر فقر کا حقیقی رنگ بہت غالب تھا اور آپ کی زندگی کے کسی پہلو سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ اللہ کے بندوں میں آپ کو ظاہراً کوئی امتیاز حاصل ہے۔
آپ کی زندگی انتہائی سادہ تھی، ظاہری نمود و نمائش سے گریز فرماتے، جس کا اندازہ اس امر سے بخوبی ہوتا تھا کہ آپ حلقہ مریدین و تابعین میں بھی اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتے۔ آپ مریدوں کو نصیحت فرماتے کہ اپنے اندر انکساری پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ۖ کو عاجزی پسند ہے۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں آپ کو خوب مقبولیت عطا فرمائی۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور گرد و نواح کے علاوہ دوسرے شہروں سے مخلوق خدا جوق در جوق آتی اور فیوضات و برکات کی نعمت سے مالامال ہو کر جاتی۔
آپ اکثر فرمایا کرتے تھے:
’’مادرچے خیالے فلک درچے خیال، کارے کہ خدا کنم فلک درچے مجال‘‘
’’فضل خدا ایک طرف، خلق خدا ایک طرف‘‘
’’خدمت کر دی مخدوم شدی، نہ کردی محروم شدی‘‘
’’بہ لباس امیرانہ، بہ خیال فقیرانہ‘‘۔
پیر طریقت حضرت پیر سید مستان شاہ حق بابا چشتی صابری کو شریعت کے سوا کوئی دوسرا فعل پسند نہ تھا۔ آپ نے ایک بار فرمایا: فقیر جتنی بھی رسائی رکھتا ہو مگر مالک کے دربار میں سنت نبوی ۖ کے بغیر سخت مجرم ہو گا۔
آپ اکثر فرماتے کہ شیخ یا مرشد کی دل سے عزت اور قدر کی جانی چاہئے۔ مرید کو شیخ کی ذات میں فنا ہو جانا چاہئے، بالکل اسی طرح جس طرح شیخ اپنے مرشد و شیخ کی ذات میں فنا ہو کر کچھ حاصل کرتا ہے۔
مریدین جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے اور گفتگو کے دوران شریعت و معرفت کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کر کے ان کی تربیت فرماتے۔ آپ مریدین کے ظاہر کو شریعت سے آراستہ کرتے اور بعد ازاں باطن کو با لیدگی عطا کرتے۔
رئیس الفقراء پیر و مرشدی حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا چشتی صابری اپنے زہد و تقویٰ کے لیے مشہور تھے، اور ایک سچے عاشق رسول ۖ اور عقیدت مند محبت کے سمندر میں ڈوبے ہوئے عاشقِ فرید تھے۔ آپ کی بابا فرید کے ساتھ نسبت خاص نے صوبہ خیبر پختونخوا میں رنگ فریدی میں ایک ایسا روح پرور نکھار ابھارا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں یہ رنگ پھیلتا ہی جا رہا ہے اور عاشقان فرید کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے، اور ان کی برکتوں کی طفیل ہمیں بھی دنیا و آخرت کی سرخروئی حاصل ہورہی ہے۔ بے شک اولیاء اللہ کا قول و فعل سب کا سب رسول ۖ کی تعلیمات کا عملی نمونہ ہے۔
آستانہ عالیہ میں جامعہ رحمانیہ کے نام سے ایک بہت بڑی درس گاہ قائم ہے جس کی سرپرستی پیر و مرشدی سید مستان شاہ سرکار حق بابا کے فرزند سید عنایت شاہ بادشاہ موتیاں والی سرکار کر رہے ہیں۔
پیر حضرت سید مستان شاہ سرکار حق بابا نے وصال سے چند روز قبل حاضرین کو پند و نصائح فرمائیں اور فرمایا کہ میرے لیے قبر کی جگہ کا تعین کریں اور دعاؤں، فیوض و برکات سے نوازا۔ وصال سے کچھ روز پہلے آپ نے خود قبر شریف پسند فرمائی۔
حق بابا سرکار بروز ہفتہ 17 ربیع الاؤل 1438ھ بمطابق 17 دسمبر 2016ء کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کو اس دنیائے فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر کے واصل بحق ہوئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
آپ کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح گاؤں اور پشاور شہر میں پھیل گئی اور لوگوں نے زار و قطار روتے ہوئے جوق در جوق آستانہ عالیہ تمبر پورہ شریف کا رخ کیا اور تمام رات مریدین کا تانتا بندھا رہا۔
دوسرے روز بروز اتوار 18 ربیع الاؤل 1438ھ بمطابق 18 دسمبر 2016ء صبح 10:00 بجے نماز جنازہ آپ کے فرزند اور سجادہ نشین حضرت پیر عنایت شاہ بادشاہ موتیاں والی سرکار نے ادا کی۔ ہزاروں کی تعداد میں مریدین اور عشاق جنازہ میں شریک تھے اور ہر کوئی غمزدہ و گریہ بار تھا۔
آپ کی پسند کردہ جگہ پر آسودہ خاک ہوئے۔ آپ کا مزار مبارک تمبرپورہ شریف سے ڈیڑھ دو فرلانگ کے فاصلے پر ایک ٹیلے پر واقع ہے اور ان کا دسواں عرس مبارک 18 ربیع الاؤل 1448ھ بمطابق 01 ستمبر 2026ء بروز منگل کو منایا جاتا ہے۔
آج بھی آپ کے فیض کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور فیوض و برکات کا یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔ آپ کا مزار پاک تمبر پورہ شریف پشاور میں عقیدت مندوں کے لیے مرجع خلائق ہے۔