گھوٹکی( کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ٹاؤن کمیٹی ڈہرکی کے ملازمین نے حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اعلان کردہ 7 فیصد اضافے پر تاحال عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شدید گرمی میں احتجاج کیا۔ ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور اعلان کردہ اضافے کو تنخواہوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے باوجود وہ اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم ٹاؤن کمیٹی ڈہرکی کے ملازمین کو تاحال اس اضافے کا فائدہ نہیں مل سکا، جس کے باعث ملازمین میں تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
ملازمین کے مطابق انہوں نے اپنے مسائل کے حل اور تنخواہوں میں اعلان کردہ اضافے پر عملدرآمد کے حوالے سے ٹاؤن افسر سے بات چیت کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ انہیں مبینہ طور پر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا جا رہا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے سنجیدہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث ان میں مایوسی اور غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین نے ٹاؤن کمیٹی ڈہرکی کے ٹی ایم او کے حوالے سے بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ملازمین کا دعویٰ ہے کہ ٹی ایم او مبینہ طور پر دو مختلف مقامات کے غیر قانونی چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی بھی شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کا مطالبہ کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ تنخواہ میں اضافے پر عملدرآمد اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ٹاؤن کمیٹی ڈہرکی کے ملازمین کی تنخواہوں میں اعلان کردہ 7 فیصد اضافہ نافذ کیا جائے۔
ملازمین نے مزید مطالبہ کیا کہ ان کے دیگر جائز مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور ٹی ایم او کی جانب سے مبینہ طور پر دو مختلف مقامات کے غیر قانونی چارج رکھنے کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے صورتحال واضح کی جائے اور کسی بھی ذمہ دار کے خلاف الزامات ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
احتجاجی ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی اور تنخواہوں میں اعلان کردہ اضافے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار بڑھانے پر غور کر سکتے ہیں۔