چہرے نہیں، نظام بدلیں
تحریر: سید نذیر شاہ
پاکستان کو چہروں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے، کیونکہ آج بھی جب کسی دور دراز اور پسماندہ علاقے کا شہری انصاف، ریونیو ریکارڈ یا کسی انتظامی مسئلے کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومت پہنچتا ہے تو اسے دو مختلف پاکستان دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف ترقی یافتہ شہر کی چمک دمک، کشادہ شاہراہیں، جدید سرکاری عمارتیں، معیاری ہسپتال اور بہترین تعلیمی ادارے ہیں، جبکہ دوسری طرف اس کے اپنے علاقے میں بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر تک کی شدید کمی ہے۔ یہ فرق صرف جغرافیائی فاصلے کا نہیں بلکہ وسائل، اختیارات اور ترقیاتی فنڈز کے غیر مساوی نظام کا نتیجہ ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں لاہور کے فی کس شہری پر 13 ہزار 240 روپے، جبکہ لیہ کے ہر شہری پر صرف 460 روپے خرچ کیے گئے۔ یہی وہ گہرا احساسِ محرومی ہے جس نے دہائیوں سے پاکستان میں نئے صوبوں، نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتوں کی بحث کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
حالیہ دنوں میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور عسکری ترجمان کی جانب سے بھی بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا ذکر کیے جانے سے اس اہم مسئلے نے قومی سطح پر ایک بار پھر نئی توجہ حاصل کی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اگرچہ انتظامی ضرورت کے تحت متعدد نئے اضلاع، تحصیلیں اور ڈویژن تو بنتے رہے، تاہم نئے صوبوں کا معاملہ ہمیشہ آئینی، سیاسی اور انتظامی اعتبار سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور دیگر علاقوں سے مختلف ادوار میں نئے صوبوں کے مطالبات اٹھتے رہے ہیں، جن کی بنیاد صرف ثقافتی یا علاقائی شناخت نہیں بلکہ یہ احساس ہے کہ بڑے صوبوں میں دور دراز علاقوں کی ضروریات اکثر ترجیحات میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ جب تمام اہم فیصلے ایک ہی مرکز میں بند کمروں میں ہوں تو پسماندہ علاقوں کے مسائل کا ادراک مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان آج ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں اور انتظامی مسائل پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ جو انتظامی ڈھانچہ کئی دہائیاں پہلے نسبتاً کم آبادی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، آج اسی پر کئی گنا زیادہ آبادی اور پیچیدہ مسائل کا بوجھ آ چکا ہے۔ دنیا کے متعدد وفاقی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنی انتظامی تقسیم پر نظرثانی کی، نئے صوبے، ریاستیں یا انتظامی یونٹس قائم کیے، اختیارات مقامی سطح تک منتقل کیے اور بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنایا تاکہ ریاستی ادارے عوام کے قریب رہیں اور خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے۔ اسی عالمی تجربے کی روشنی میں پاکستان میں بھی یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ کیا موجودہ انتظامی نظام مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا اب وقت آ گیا ہے کہ نئے حالات کے مطابق انتظامی اصلاحات، نئے یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتوں کی جانب سنجیدگی سے پیش رفت کی جائے۔
اس انتظامی بحث کا ایک اہم پہلو ملک کے معاشی اور حکمتِ عملی کے مراکز کراچی اور گوادر کی انتظامی حیثیت سے متعلق بھی ہے۔ کراچی جہاں ملک کا معاشی دارالحکومت اور سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے، وہیں گوادر اپنی جغرافیائی اہمیت اور سی پیک منصوبوں کے باعث آنے والے دور کا عالمی تجارتی گیٹ وے ہے۔ کراچی کئی دہائیوں سے پینے کے پانی، نکاسیِ آب، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی ابتری کا شکار ہے، جبکہ گوادر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے تیز ترین فیصلے درکار ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر وقتاً فوقتاً یہ تجاویز سامنے آتی رہتی ہیں کہ ان دونوں ساحلی شہروں کو انتظامی طور پر صوبائی اثر و رسوخ سے نکال کر براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام یا خصوصی وفاقی زون بنا دیا جائے تاکہ ان کی ترقی، انتظامی امور اور سکیورٹی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے حامیوں کا مؤقف انتہائی واضح اور منطقی ہے۔ ان کے نزدیک جب کسی ایک صوبائی حکومت کو کروڑوں انسانوں کا نظام سنبھالنا پڑے تو انتظامی کارکردگی کا متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔ اگر انتظامی اکائیاں نسبتاً چھوٹی ہوں تو نہ صرف فیصلے تیزی سے ہوں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بہتر ہوگی، بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے عوام کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس کا ایک نہایت اہم پہلو انصاف اور سرکاری امور کی بروقت اور آسان فراہمی ہے۔ آج بھی ایک عام شہری کو اپنے معمولی سروس امور، ریونیو ریکارڈ یا ہائی کورٹ کے مقدمات کے لیے صوبائی سیکریٹریٹ یا اعلیٰ عدالتوں تک پہنچنے کے لیے طویل اور تھکا دینے والا سفر کرنا پڑتا ہے، جبکہ یہ ادارے عوام کی دہلیز کے قریب ہونے سے ان پر مالی اور ذہنی بوجھ نمایاں طور پر کم ہوگا۔
دوسری جانب، اس تجویز کے مخالفین یا محتاط نقطۂ نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف نئے انتظامی یونٹس یا حدود کی نئی لکیریں کھینچ دینے سے مسائل خودبخود حل نہیں ہوں گے۔ اگر نئے صوبوں کو مناسب مالی وسائل، مضبوط ادارے، تربیت یافتہ افرادی قوت اور شفاف نظامِ حکمرانی فراہم نہ کیا جائے تو پرانے مسائل نئی شکل میں دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل ضرورت صرف جغرافیائی تقسیم نہیں بلکہ بہتر منصوبہ بندی، مالی خودمختاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور احتساب کے مضبوط نظام کی ہے۔ آئینی ماہرین اس نقطے پر بھی یاد دہانی کراتے ہیں کہ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ تاریخی صوبائی اکائیوں کے اتحاد پر قائم ہے، اس لیے صوبوں کی حدود میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور قومی مفاد کو پیشِ نظر رکھنا لازمی ہے۔
اسی حساسیت اور قومی ہم آہنگی کے پیشِ نظر آئینِ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے ایک انتہائی شفاف اور محتاط طریقۂ کار مقرر کیا گیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی شق (4) کے مطابق اگر کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی یا نیا صوبہ قائم کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان میں سے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں بھی اس آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد ہی یہ حتمی منظوری کے لیے صدرِ مملکت کو پیش کی جا سکتی ہے۔ اس آئینی طریقۂ کار کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ وفاقی ڈھانچے میں کوئی بھی بڑی تبدیلی کسی وقت کی سیاسی مصلحت کے بجائے آئینی اور جمہوری اصولوں کے تحت عمل میں آئے۔
ان تمام انتظامی اصلاحات کی جامع بحث میں سب سے بنیادی اور فوری کارآمد پہلو مقامی حکومتوں کا فعال کردار ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کے تحت سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، مگر عملی طور پر بلدیاتی اداروں کو جمہوری ادوار میں مطلوبہ اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے۔ اکثر صوبائی حکومتیں وقت پر بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریزاں رہتی ہیں، اور اگر انتخابات ہو بھی جائیں تو مقامی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز منتقل نہیں کیے جاتے۔ نتیجتاً اضلاع کا نظام منتخب عوامی نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی اور وزیراعلیٰ کے براہِ راست احکامات کے تحت چلایا جاتا ہے۔ اگر مقامی حکومتوں کو آئینی روح کے مطابق حقیقی معنوں میں بااختیار، خودمختار اور مالی طور پر مضبوط بنا دیا جائے تو صفائی، پینے کے پانی، نکاسیِ آب، مقامی سڑکوں، بنیادی تعلیم اور صحتِ عامہ کے اکثر مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو سکتے ہیں۔ اس قدم سے نہ صرف طرزِ حکمرانی اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ عام شہری کو بھی تمام بنیادی سہولیات اس کی گلی، محلے کی سطح پر بروقت میسر آئیں گی۔