گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری): میہڑ سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی تین طالبات کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایس ایس پی دادو کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں طالبات کو میرپورخاص اور حیدرآباد کے قریب سے بازیاب کروا لیا، جبکہ کیس کے مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق بازیاب ہونے والی طالبات میں انزیلا پنہور، فاطمہ جانوَری اور روشنی تیوَنو شامل ہیں۔ ایس ایس پی دادو نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران کارروائی کرتے ہوئے میرپورخاص کے رہائشی زین مہر کو گرفتار کیا گیا، جسے اس معاملے کا مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔
ایس ایس پی کے مطابق زین مہر کا تقریباً چار سال قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے ذریعے روشنی تیوَنو سے رابطہ ہوا تھا۔ بعد ازاں اس نے طالبہ کے والدین کو باقاعدہ رشتہ بھی بھیجا، تاہم اہل خانہ کی جانب سے انکار کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق روشنی تیوَنو نے اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ازخود گھر سے باہر جانے کا فیصلہ کیا۔
ایس ایس پی دادو نے مزید بتایا کہ بازیاب ہونے والی طالبات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقائق مکمل طور پر سامنے لائے جا سکیں۔