میہڑ سے یکے بعد دیگرے 5 لڑکیاں لاپتا، اجالا سولنگی اور پریا کماری کی عدم بازیابی پر بھی سوالات

میہڑ میں طالبات سمیت 5 لڑکیوں کی گمشدگی، آئی جی سندھ کا نوٹس، والدین میں تشویش بڑھ گئی، یکے بعد دیگرے 5 لڑکیوں کا لاپتا ہونا ، اجالا سولنگی اور پریا کماری کی عدم بازیابی پر بھی سوالات

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری کی رپورٹ) ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں سکول جانے والی طالبات سمیت پانچ لڑکیوں کی مبینہ گمشدگی کے واقعات نے علاقے میں خوف، تشویش اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میہڑ کی آٹھویں جماعت کی تین طالبات فاطمہ جانوری، روشنی تیونو اور تنزیلہ پنہور پراسرار طور پر لاپتا ہو گئی ہیں، جبکہ بروہی برادری سے تعلق رکھنے والی دو مزید نوجوان لڑکیوں کی گمشدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر پانچ لڑکیوں کے لاپتا ہونے کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق لاپتا ہونے والی طالبات معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کے لیے نکلی تھیں، تاہم بعد ازاں ان کا سراغ نہ مل سکا۔ اہل خانہ نے بچیوں کی عدم واپسی پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ شہری اور سماجی حلقے بھی بچیوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

معاملے کی سنگینی کے پیش نظر انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر لاپتا لڑکیوں کی تلاش کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایس ایس پی دادو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معصوم بچیوں کی گمشدگی میں ملوث عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ ان کے مطابق پولیس تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے اور بچیوں کی بازیابی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

دوسری جانب شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میہڑ اور گرد و نواح میں بچیوں کے لاپتا ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات والدین کے لیے خوف کا باعث بن رہے ہیں۔ سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔

شہری حلقوں نے اس موقع پر چھ ماہ قبل میہڑ سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی سات سالہ بچی اجلا سولنگی کا معاملہ بھی دوبارہ اٹھایا ہے، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اجلا سولنگی کے والدین اور سول سوسائٹی کی جانب سے مسلسل احتجاج اور مطالبات کے باوجود بچی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ اسی طرح سندھ کی معروف لاپتا بچی پریا کماری سمیت دیگر کئی بچیوں کے کیسز بھی ابھی تک حل طلب ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ماضی کے ایسے واقعات میں فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جاتی تو شاید آج دوبارہ اس نوعیت کے واقعات پیش نہ آتے۔ والدین نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتا تمام بچیوں کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے اور اس سلسلے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ عوام کے تحفظ کے احساس کو بحال کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے