70 ارب کرپشن الزامات ثابت نہ ہو سکے، عدالت نے مراد سعید کو احسن اقبال کو ہرجانہ دینے کا پابند کر دیا

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے حق میں دائر ہتکِ عزت کے دعوے کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما مراد سعید کو 25 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج حاکم خان نے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ مراد سعید کی جانب سے احسن اقبال پر عائد کیے گئے کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی کمیشن لینے کے الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہو سکے، لہٰذا یہ الزامات ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مراد سعید نے 2019 میں ملتان۔سکھر موٹر وے منصوبے کے حوالے سے احسن اقبال پر 70 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم وہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔

فیصلے کے مطابق متنازع بیانات سے احسن اقبال کی ساکھ، عزت اور وقار کو نقصان پہنچا اور عوام میں ان کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے الزامات کسی بھی عوامی شخصیت کی دیانتداری، کردار اور پیشہ ورانہ ساکھ پر براہِ راست حملے کے مترادف ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ احسن اقبال نے 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، تاہم دستیاب شواہد اور مقدمے کے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنی بڑی رقم کا دعویٰ حد سے زیادہ قرار دیا گیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے 25 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مراد سعید نہ تو خود عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی اپنے الزامات کے حق میں کوئی مؤثر ثبوت فراہم کر سکے، جس کے باعث ان کا مؤقف ثابت نہ ہو سکا۔

یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2019 میں دائر کیا گیا تھا جب مراد سعید نے ملتان۔سکھر موٹر وے منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے حوالے سے احسن اقبال پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ احسن اقبال نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا اور ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس پر اب عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے