راولپنڈی(کیو این این ورلڈ)آزاد کشمیر کی صورتحال، گڈ گورننس، دہشت گردی، بلوچستان اور قومی سلامتی پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی تفصیلی پریس بریفنگ
پاکستان کی افواج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کے روز کہا کہ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر میں جاری صورتحال پر انتہائی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی عمل ہر صورت جاری رہے گا اور آئین و قانون کے مطابق ہر فرد کا احتساب کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں احتجاج اور آئندہ کے لائحۂ عمل سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کی منشا کا اظہار سیاسی عمل کے ذریعے ہی ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کی منشا کا فیصلہ سیاستدان کریں گے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ سیاسی قیادت ملک میں اچھی حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمود کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا، کیونکہ رکا ہوا پانی بھی کچھ عرصے بعد بدبو دینے لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے دانشمندی اور تدبر سے کام لیتے ہوئے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا ہے، حالانکہ بعض حلقوں کے ایجنڈے واضح ہو چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان 2019ء اور 2025ء میں بھارت کے ساتھ اپنا حساب برابر کر چکا ہے اور اس کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے کی نئی حکمت عملی اختیار کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلے پاکستان کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکامی کے بعد اس نے حقوق اور آزادی کے نام پر پاکستان کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے تمام متعلقہ حلقوں کو آئینی طریقے سے انتخابی عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا، لیکن بعض عناصر نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ تشدد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور کسی پرتشدد ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور نظریاتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر کشمیری عوام کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو وہ پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حکومت اربوں ڈالر خرچ کرنے، آئینی ترامیم لانے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے کے باوجود کشمیری عوام کے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم نہیں کر سکی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے بعض بیانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر سردار ابراہیم خان اور سردار عبدالقیوم خان جیسے کشمیری رہنماؤں پر تنقید کر رہے ہیں جنہوں نے 1947ء میں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ شخصیات تھیں جنہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کی اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے قربانیاں دیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک فوج کو "قابض فوج” قرار دینے کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک لاکھ کے قریب کشمیری پاک فوج سے وابستہ ہیں اور متعدد کشمیری افسران اعلیٰ عسکری عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیپٹن محمد سرور شہید سمیت بے شمار فوجی جوانوں نے کشمیر کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اس لیے پاک فوج کو قابض فوج قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے لیے ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو مخصوص مقاصد کے تحت پروپیگنڈا کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں اور یہ معاملہ آزاد کشمیر حکومت، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل مقررہ وقت پر ہوگا، اسمبلیاں وجود میں آئیں گی اور تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
گڈ گورننس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہو تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ تمام عمل آئینی اور قانونی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے گڈ گورننس بنیادی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق موجود ہے، جن میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، بیانیے کی تشکیل، غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ اور ریاستی اداروں کی مضبوطی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ گڈ گورننس بھی اتنی ہی ضروری ہے کیونکہ صرف طاقت کے ذریعے مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کوئی ہارڈ اسٹیٹ نہیں بلکہ ایک آئینی اور جمہوری ریاست ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب فوجی حکمرانی نہیں بلکہ ایسی ریاست ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو اور کسی کو خصوصی رعایت حاصل نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کے ساتھ فرائض بھی لازم ہیں اور ہر شہری کی اولین ذمہ داری ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پاسداری ہے۔آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہر پاکستانی کی پہلی اور آخری شناخت پاکستان ہونی چاہیے اور قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اوسطاً 194 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں جبکہ رواں سال اب تک 2 ہزار 84 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے جن میں 303 فوجی اہلکار، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 عام شہری شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس سال 28 خودکش حملے ہوئے جن میں سے اکثر حملہ آور افغان شہری تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی مزید مؤثر بنائی ہے اور اب دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2023ء کے مقابلے میں اب دہشت گردوں کو زیادہ نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فورسز زیادہ فعال انداز میں کارروائیاں کر رہی ہیں جس سے مقابلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست ایک جامع حکمت عملی کے تحت دہشت گردی، اسمگلنگ اور جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن شعبان اور دیگر سیکیورٹی اقدامات کے تحت روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تقریباً 26 لاکھ افغان باشندے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں اور سرحدی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسمگلنگ کے خلاف 2 ہزار 19 آپریشنز کیے گئے جن کے دوران 24 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کا سامان برآمد کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ منشیات، ڈیزل اور دیگر اشیاء کی غیر قانونی تجارت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ترقی اور عوامی فلاح ریاستی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 119 سماجی و اقتصادی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال تقریباً 10 ہزار 800 طلبہ کو آئی ٹی کی تربیت دی جا رہی ہے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں نئی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں اور عوامی رابطہ پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور اب تک 703 کھلے فورمز منعقد کیے جا چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں مسائل کی بنیادی وجوہات میں اشرافیہ کلچر، سرداری نظام، بیرونی مداخلت اور منظم پروپیگنڈا شامل ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ وہ موجودہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت، بعض دہشت گرد تنظیمیں اور دیگر بیرونی عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کر رہے ہیں، تاہم ریاست ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں اور ریاست ان کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔