لاہور (کیو این این ورلڈ) لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں خستہ حال تین منزلہ مکان کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں 4 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے طویل اور دشوار امدادی کارروائی کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل جاری رکھا، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد بھی ملبے تلے موجود ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق یہ المناک حادثہ باغبانپورہ کے علاقے سکھ نہر کے قریب بھٹہ محمد دین کالونی میں پیش آیا، جہاں ایک بوسیدہ اور خستہ حال مکان اچانک زمین بوس ہو گیا۔ حادثے کے وقت مکان میں متعدد افراد موجود تھے جو ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، پولیس، سول ڈیفنس اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 50 سالہ شاہدہ، 60 سالہ ثمینہ، 24 سالہ کومل، 23 سالہ مجاہد، 22 سالہ احد علی، 12 سالہ حسنین، 10 سالہ فاطمہ، 8 سالہ حماد اور 7 سالہ نیلم سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے 6 افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے مکان کی چھت مٹی اور ٹی آر گارڈر سے تعمیر کی گئی تھی، جبکہ عمارت کی دیواریں بھی انتہائی خستہ حالت میں تھیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ رات تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ تین منزلہ مکان میں تین خاندان رہائش پذیر تھے اور حادثے کے وقت زیادہ تر افراد گھروں میں موجود تھے۔
امدادی کارروائی میں 70 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے بھاری مشینری، خصوصی آلات اور گاڑیوں کے ساتھ حصہ لیا۔ سول ڈیفنس کے رضاکار، محکمہ صحت کی ٹیمیں اور ستھرا پنجاب پروگرام کے کارکن بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبہ ہٹانے کا عمل کئی گھنٹوں تک جاری رہا اور مزید افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری رکھا گیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے باغبانپورہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر انتظامی افسران موقع پر پہنچ گئے جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کی تجہیز و تکفین کے انتظامات فوری طور پر مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔
انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر متاثرہ علاقے کو سیل کر دیا ہے جبکہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر ملحقہ مکانات بھی خالی کرا لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق عمارت گرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران لاہور کے مختلف علاقوں، جن میں شالیمار روڈ، شاداب کالونی اور کاہنہ شامل ہیں، میں بھی چھتیں اور خستہ حال عمارتیں گرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب فیصل آباد میں بھی بارش کے دوران مکان کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔