خیبر پختونخوا میں ذیابیطس کی تشویشناک صورتحال

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں ذیابیطس کا خاموش بحران
تحریر: نور مت خان
پاکستان میں عوامی مباحث میں عموماً متعدی امراض زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں، مگر ایک خاموش اور نہایت خطرناک وبا تیزی سے خیبر پختونخوا، خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پھیل رہی ہے۔ ذیابیطس (شوگر)، جسے کبھی صرف خوشحال شہری آبادی کا مرض سمجھا جاتا تھا، اب دیہات، دور دراز وادیوں اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں بھی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے۔

آج پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد انتہائی زیادہ ہے۔ قومی اور بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے کیے گئے قومی ذیابیطس سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 17 فیصد بالغ افراد ٹائپ ٹو ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ تقریباً 11 فیصد افراد پری ذیابیطس (Pre-diabetes) میں مبتلا ہیں، جس کے باعث آئندہ چند برسوں میں لاکھوں افراد اس بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

حالیہ جامع تحقیقی جائزوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد ذیابیطس جبکہ 2 کروڑ 60 لاکھ افراد پری ذیابیطس کا شکار ہیں۔ اسی تحقیق کے مطابق خیبر پختونخوا میں ذیابیطس کی شرح تقریباً 11 فیصد ہے، تاہم ماہرین کے مطابق محدود طبی سہولیات، ناکافی اسکریننگ اور صحت کی خدمات تک کم رسائی کے باعث بہت سے مریضوں کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔

ضم شدہ قبائلی اضلاع میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ اگرچہ کرم، خیبر، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں ذیابیطس سے متعلق ضلعی سطح کے اعداد و شمار محدود ہیں، تاہم خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر تحقیقی اداروں کی تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ غیر متعدی امراض، خصوصاً ذیابیطس، پورے صوبے میں مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان اضلاع میں ماہر ڈاکٹروں، تشخیصی لیبارٹریوں، ذیابیطس کے تربیت یافتہ ماہرین اور باقاعدہ اسکریننگ کی سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی، جس سے قابلِ روک تھام پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔

اس بڑھتے ہوئے بحران کی کئی وجوہات ہیں۔ بدلتے ہوئے طرزِ زندگی نے دور افتادہ علاقوں میں بھی غذائی عادات کو متاثر کیا ہے۔ فائبر سے بھرپور روایتی غذاؤں کی جگہ اب سفید آٹا، میٹھے مشروبات، پراسیسڈ غذائیں اور ضرورت سے زیادہ میٹھی چائے استعمال کی جا رہی ہے۔ مشینی نظام، بے روزگاری اور پیشوں میں تبدیلی کے باعث جسمانی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپا، بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور خاندانی تاریخ بھی ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے اثرات صرف مریض کی صحت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے جو آنکھوں، گردوں، اعصاب، دل اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ادویات، لیبارٹری ٹیسٹوں اور بار بار ہسپتال جانے پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لیے یہ اخراجات غربت میں مزید اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ بینائی کی کمزوری، گردوں کی خرابی، ذیابیطس کے باعث پاؤں کی بیماریاں اور دل کے امراض مریض کی کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں، جس سے مجموعی پیداواری صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔

قبائلی علاقوں کی خواتین اس بیماری کے حوالے سے خصوصی خطرات سے دوچار ہیں۔ محدود نقل و حرکت، زچہ و بچہ کی صحت کی ناکافی سہولیات اور آگاہی کی کمی کے باعث حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس (Gestational Diabetes) کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی، جس سے ماں اور بچے دونوں کی مستقبل کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح بہت سے بزرگ افراد اس وقت تک تشخیص سے محروم رہتے ہیں جب تک بیماری خطرناک پیچیدگیوں کی صورت اختیار نہ کر لے۔

اس مسئلے کا حل صرف انفرادی علاج نہیں بلکہ ایک جامع عوامی صحت کی حکمتِ عملی ہے۔سب سے پہلے، تمام بنیادی مراکزِ صحت (BHUs)، دیہی مراکزِ صحت (RHCs) اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ذیابیطس کی اسکریننگ کو معمول کا حصہ بنایا جائے۔ خصوصاً 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد، موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر یا خاندانی تاریخ رکھنے والوں کے لیے باقاعدہ بلڈ شوگر ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے۔

دوسرے، سکولوں، مساجد، مقامی ذرائع ابلاغ اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے وسیع پیمانے پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ عوام کو چینی کے کم استعمال، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور ذیابیطس کی ابتدائی علامات سے آگاہ کیا جا سکے۔

تیسرے، صوبائی حکومت سرکاری ہسپتالوں میں جدید لیبارٹری سہولیات فراہم کرے اور انسولین، شوگر کی ادویات اور گلوکومیٹرز کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے۔ بروقت تشخیص اور مسلسل علاج گردوں کی ناکامی، اعضا کی کٹائی اور دل کے امراض جیسے مہنگے علاج سے کہیں کم خرچ ہوتا ہے۔

چوتھے، سکولوں میں غذائیت سے متعلق تعلیم اور روزانہ جسمانی ورزش کو نصاب اور معمولات کا حصہ بنایا جائے۔ بچپن کے موٹاپے کی روک تھام مستقبل میں ذیابیطس کے خلاف ایک مؤثر سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں، جامعات اور صحتِ عامہ کے تحقیقی ادارے کرم اور دیگر ضم شدہ اضلاع میں ضلعی سطح پر وبائی امراض سے متعلق جامع تحقیقات کریں تاکہ قابلِ اعتماد مقامی اعداد و شمار دستیاب ہو سکیں۔ درست معلومات کے بغیر مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں۔

خیبر پختونخوا کی آئندہ صحت کا انحصار صرف ہسپتالوں پر نہیں بلکہ بیماری کی روک تھام، عوامی آگاہی اور کمیونٹی کی شمولیت پر ہے۔ ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے، اور اگر اس کی بروقت تشخیص ہو جائے تو اسے مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ قبائلی اضلاع میں آج احتیاطی اقدامات پر سرمایہ کاری نہ صرف بے شمار جانیں بچا سکتی ہے بلکہ خاندانوں کی معاشی حالت کو بھی محفوظ بنا سکتی ہے اور پہلے سے دباؤ کا شکار صحت کے نظام پر بوجھ کم کر سکتی ہے۔

ذیابیطس اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش بیماری خیبر پختونخوا کے عوام پر مزید سنگین سماجی اور معاشی بوجھ مسلط کر دے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس بحران کا فوری اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے