سردار مل گیا، بچیاں آج بھی غائب
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
سندھ کی سرزمین پر انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی کے دعوے تو بارہا سنائی دیتے ہیں، لیکن جب ان دعووں کو عملی شکل دینے کا وقت آتا ہے تو ریاستی نظام دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ایک طرف بااثر طبقہ، سردار اور جاگیردار ہیں جن کی حفاظت اور بازیابی کے لیے ریاستی مشینری غیرمعمولی سرعت سے حرکت میں آ جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب غریب، بے سہارا اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے وہ والدین ہیں جن کے لاپتا بچوں کی تلاش میں برسوں گزر جاتے ہیں مگر انہیں انصاف کی ایک کرن بھی نصیب نہیں ہوتی۔
حالیہ دنوں میں گھوٹکی کے علاقے بیروٹا سے سردار جہانگیر شہریار خان شر کے اغوا کا واقعہ پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی پورا انتظامی اور پولیس ڈھانچہ متحرک ہو گیا۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران، ایس پی ہیڈکوارٹر حافظ عبدالقادر چاچڑ اور ڈی ایس پی اوباڑو عبدالقادر سومرو بھاری نفری کے ہمراہ خود میدان میں اترے۔ مختلف علاقوں میں ناکہ بندیاں کی گئیں، سرچ آپریشن شروع ہوا اور چند ہی گھنٹوں میں سردار جہانگیر شہریار خان شر کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
یہ کارروائی بلاشبہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ قانون کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ لیکن اسی مقام پر ایک ایسا سوال جنم لیتا ہے جو سندھ کے ہزاروں مظلوم خاندانوں کے دلوں میں برسوں سے سلگ رہا ہے۔ کیا یہی سرعت، یہی وسائل اور یہی پیشہ ورانہ مہارت صرف بااثر افراد کے لیے مخصوص ہے؟ کیا سندھ سے اغوا ہونے والی پریا کماری، اجالا سولنگی اور دیگر غریب والدین کی بچیاں کسی اور دنیا کی مخلوق تھیں؟ آخر وہ کہاں گم ہوگئیں؟ کیا انہیں آسمان اٹھا کر لے گیا یا زمین نگل گئی؟
اسی سندھ کی دھرتی پر 19 اگست 2021 کو سکھر کے قریب سانگرار سے سات سالہ معصوم پریا کماری اس وقت لاپتا ہوئی جب وہ محرم الحرام کے موقع پر اپنے والد کے ساتھ سبیل پر پانی تقسیم کر رہی تھی۔ برسوں گزر گئے، متعدد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں تشکیل دی گئیں، عدالتوں نے احکامات جاری کیے، اعلیٰ پولیس حکام نے دعوے اور یقین دہانیاں کرائیں، مگر آج تک پریا کماری کا سراغ نہیں مل سکا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اچانک زمین میں سما گئی ہو۔
پریا کماری کا معاملہ ابھی حل طلب ہی تھا کہ دادو کی تحصیل میہڑ سے کمسن اجالا سولنگی کے اغوا نے ایک اور خاندان کی دنیا اجاڑ دی۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود اجالا سولنگی بھی تاحال لاپتا ہے۔ اس کے اہلِ خانہ دربدر انصاف کی تلاش میں ہیں، مگر ریاستی ادارے انہیں صرف تسلیوں کے سوا کچھ نہیں دے سکے۔
یہ صرف دو بچیوں کی کہانی نہیں۔ فضیلہ سرکی، نوید لاشاری، صبا کلہوڑو اور درجنوں دیگر لاپتا بچوں کے کیسز سندھ کے ضمیر پر ایک ایسا سوالیہ نشان بن چکے ہیں جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ یہ تمام واقعات اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عام اور غریب شہریوں کے بچے ریاستی ترجیحات میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔
اگر ایک بااثر سردار کی بازیابی کے لیے چند گھنٹوں میں پورا نظام حرکت میں آ سکتا ہے تو پھر معصوم بچیوں اور بچوں کے کیسز میں یہی نظام اتنا بے بس کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کیا پریا کماری اور اجالا سولنگی کا حقِ زندگی اور تحفظ کسی سردار کے برابر نہیں؟ کیا آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25، جو تمام شہریوں کو برابری اور یکساں قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟
جب پریا کماری اور اجالا سولنگی سمیت دیگر لاپتا بچوں کے والدین اور سول سوسائٹی کے کارکن سڑکوں پر نکلتے ہیں، دھرنے دیتے ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی آواز سننے کے بجائے انہیں منتشر کیا جاتا ہے۔ بعض مواقع پر لاٹھی چارج، گرفتاریاں اور دباؤ کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف کارروائی سے زیادہ زور احتجاج کرنے والوں کو خاموش کرانے پر صرف کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سنگین سوال کھڑا کرتی ہے۔ عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ قانون کی رفتار کا تعین جرم کی نوعیت سے نہیں بلکہ متاثرہ شخص کی سماجی حیثیت سے ہوتا ہے۔ اگر متاثرہ فرد بااثر ہو تو پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے، اور اگر وہ غریب، مزدور، دہقان یا اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہو تو اس کی فریاد فائلوں اور بیانات کی نذر ہو جاتی ہے۔
ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس قسم کا دوہرا معیار معاشرے میں مایوسی، بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کو فروغ دیتا ہے۔ اقلیتوں اور غریب طبقات کے تحفظ میں ناکامی نہ صرف آئینی ذمہ داریوں سے انحراف ہے بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں برسوں سے انہی سوالات کو اٹھا رہی ہیں۔
اگر سندھ پولیس کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ چند گھنٹوں میں ایک بااثر شخصیت کو بازیاب کرا سکتی ہے تو پھر یہی صلاحیت پریا کماری، اجالا سولنگی اور دیگر لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے کیوں بروئے کار نہیں لائی جاتی؟ حکومتِ سندھ اور آئی جی سندھ کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔
انصاف تبھی انصاف کہلائے گا جب وہ مذہب، ذات، رنگ، نسل، طبقے اور حیثیت کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر شہری کو یکساں طور پر میسر آئے۔ ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہرائے گی کہ اگر ایک سردار چند گھنٹوں میں بازیاب ہو سکتا ہے تو پریا کماری، اجالا سولنگی اور سندھ کے دیگر لاپتا بچوں کو آخر کون سا دیس نگل گیا؟
