پاکستان سے غیرملکی کمپنیاں بھاگ گیئں

پاکستان سے غیر ملکی کمپنیوں کا انخلا
ضیاء الحق سرحدی (ستارۂ امتیاز)، پشاور
Email: ziaulhaqsarhadi@gmail.com

گزشتہ دنوں امریکی ملٹی نیشنل کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے پاکستان میں اپنی مینوفیکچرنگ اور ٹریڈنگ سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ تین سال کے دوران متعدد ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کرچکی ہیں جن میں ایلی للی، شیل، مائیکرو سافٹ، اوبر، یاماہا، فائزر (Pfizer)، ٹوٹل انرجیز، ٹیلی نار، سنوفی، ایونٹس (Aventis) اور بائر قابلِ ذکر ہیں۔

پراکٹر اینڈ گیمبل 1991ء سے پاکستان میں صابن، سرف، لوشن، ڈیٹرجنٹ پاؤڈر اور دیگر مصنوعات کی مینوفیکچرنگ اور سپلائی کررہی تھی۔ اسی دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل کی بڑی کمپنی گل احمد نے بھی ملک میں اپنے ایپرل اور گارمنٹس مینوفیکچرنگ یونٹس ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ان کمپنیوں کے بند ہونے سے جہاں حکومت کو ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کا نقصان ہوگا، وہاں بے روزگاری اور غربت میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں توانائی کا بحران، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ٹیکسوں کی بھرمار، روپے کی قدر میں کمی، بینکوں کی بلند شرحِ سود، پالیسیوں کا عدم تسلسل، ڈالر میں منافع ملک سے باہر منتقل کرنے میں مشکلات، خام مال کی درآمد میں دشواریاں اور پیداواری لاگت میں اضافہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث ملک میں کاروبار کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

پراکٹر اینڈ گیمبل پاکستان میں اپنی فیکٹری اور تجارتی سرگرمیاں بند کرکے تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹر کے ذریعے صارفین کو اپنی مصنوعات فراہم کرے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ P&G کی بندش سے سینکڑوں افراد بے روزگار ہوں گے۔

ہم اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے معدنیات، انفراسٹرکچر، توانائی، پورٹس اور ایئرپورٹس میں نئی سرمایہ کاری لانے کے لیے چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان اور دیگر ممالک سے مذاکرات کررہے ہیں۔ یہ ممالک پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع، وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے راستوں اور تانبے، سونے اور کوئلے جیسے معدنی ذخائر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن ہر کاروبار کا بنیادی مقصد منافع کمانا ہوتا ہے اور اگر حکومتی پالیسیوں کے باعث یہ منافع ختم ہوجائے تو کاروبار کرنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔

یہی کچھ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ہوا جو ان کے پاکستان میں آپریشنز بند کرنے کا سبب بنا۔ اس صورتحال میں پاکستانی مصنوعات چین، ویتنام، بنگلہ دیش اور کمبوڈیا جیسے علاقائی حریفوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں، کیونکہ ان ممالک کی پیداواری لاگت ہم سے کم ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ان کی پالیسیاں زیادہ پرکشش اور معاون ہیں۔

ان تمام کمپنیوں کے بند ہونے کی مشترکہ وجہ پاکستان کا غیر منصفانہ اور جارحانہ ٹیکس نظام ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کی بھرمار کی جارہی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کہیں اتنے ٹیکس لیے جاتے ہوں جتنے پاکستان میں لیے جاتے ہیں۔

ایک کارپوریٹ کمپنی کو 39 فیصد اسٹینڈرڈ کارپوریٹ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ 500 ملین روپے منافع پر 10 فیصد سپر ٹیکس، 2 فیصد ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF)، 5 فیصد ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (WPPF)، 0.5 فیصد سے 2 فیصد تک مختلف لیویز، ایف بی آر کی جانب سے منافع ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں ہر سہ ماہی ایڈوانس ٹرن اوور ٹیکس اور 1.25 فیصد کم از کم ٹرن اوور ٹیکس بھی شامل ہیں۔

یہ تمام ٹیکسز ملا کر تقریباً 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں، جو کوئی بھی کمپنی طویل عرصے تک برداشت نہیں کرسکتی۔ مثال کے طور پر اگر کسی کارپوریٹ کمپنی نے سالانہ 60 کروڑ روپے منافع کمایا ہے تو اسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں 28 کروڑ روپے سے زائد حکومت کو ادا کرنا ہوں گے۔

پاکستان میں اس وقت 5.2 ملین سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں کام کررہے ہیں، جن کا جی ڈی پی میں 40 فیصد اور روزگار کی فراہمی میں 30 فیصد حصہ ہے۔ یہ SMEs بھی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور ملک کا صنعتی شعبہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔

حکومت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر SMEs اور بڑے درجے کی صنعتوں (LSM)، بالخصوص ٹیکسٹائل صنعت کو بحال کرنے کے لیے ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھانا ہوگی، جو سالانہ 13 ملین بیلز سے کم ہوکر 5 ملین بیلز تک آگئی ہے۔ نتیجتاً ٹیکسٹائل صنعت کو بیرونِ ملک سے کپاس درآمد کرنا پڑرہی ہے، جو نہ صرف مہنگی پڑتی ہے بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی بڑا بوجھ ہے۔

میری حکومت کو تجویز ہے کہ نئی سرمایہ کاری لانے کے ساتھ ساتھ موجودہ کمپنیوں کی مسابقتی صلاحیت برقرار رکھنے پر بھی توجہ دی جائے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں، بینکوں کی بلند شرحِ سود اور ٹیکسوں کی شرح کو علاقائی ممالک کے مقابلے کے مطابق بنایا جائے، کیونکہ انہی وجوہات کی بنا پر غیر ملکی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں کاروبار کرنا منافع بخش نہیں رہا۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال کو تجویز ہے کہ وہ اوورسیز انویسٹرز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)، جو پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں تاکہ غیر ملکی کمپنیوں کی بندش سے قبل ان کے مسائل حل کیے جاسکیں۔

اسی تناظر میں گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2026 (جولائی 2025 تا جون 2026) کے دوران بیرونی سرمایہ کاری (FDI) کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق کل غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری 1.637 ارب ڈالر رہی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 2.477 ارب ڈالر تھی، یعنی ایک سال میں تقریباً 34 فیصد کمی واقع ہوئی۔

جولائی تا اپریل کے ابتدائی دس ماہ کے دوران غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری 1.409 ارب ڈالر رہی۔ ماہرین کے مطابق علاقائی کشیدگی، خلیجی جنگ، ایران۔امریکہ تنازع، بھارت کے ساتھ مختصر تناؤ، پالیسی اور گورننس کا عدم استحکام اور سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

ٹیلی کام سیکٹر سے بڑے انخلا نے بھی صورتحال کو متاثر کیا۔ دسمبر 2025 میں ٹیلی نار کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کو اثاثوں کی فروخت کے نتیجے میں 431 ملین ڈالر کا آؤٹ فلو ریکارڈ کیا گیا۔

2026 میں پاکستان میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری 1.63 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کم ہے۔ چین اب بھی پاکستان میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے، جبکہ زیادہ تر سرمایہ کاری پاور اور بینکنگ سیکٹر میں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک علاقائی صورتحال بہتر نہیں ہوتی اور پالیسیوں میں تسلسل پیدا نہیں کیا جاتا، بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کا پاکستان آنا مشکل رہے گا۔

یاد رہے کہ یہ تمام کمپنیاں صرف پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی پروڈکشن اور کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت پہلے سے موجود سرمایہ کاروں کو مطمئن اور محفوظ نہیں رکھ سکتی تو نئے سرمایہ کاروں کو کیسے راغب کرے گی؟

پاکستان میں تو اب خود پاکستانی سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچا رہے ہیں، ایسے میں بیرونِ ملک سے سرمایہ کار کیوں آئیں گے؟ وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں نظامی مسائل بڑھتے جارہے ہیں، اور یہ نظام اسی وقت بہتر ہوسکتا ہے جب اوپر سے نیچے تک تمام ادارے ملک اور عوام کے مفاد کو ترجیح دیں۔ بصورتِ دیگر وہ دن دور نہیں جب ملک کو ڈالر کی قلت اور ادائیگیوں کے بحران جیسے مسائل کا دوبارہ سامنا کرنا پڑے، جیسا کہ ماضی قریب میں ہوتا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے