مصور میں ترا شاہکار واپس کرنے آیا ہوں، ساحر لدھیانوی کا یہ ایک مصرعہ پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے

مصور، میں ترا شاہکار واپس کرنے آیا ہوں
تحریر ۔ سید نذیر شاہ

مصور میں ترا شاہکار واپس کرنے آیا ہوں، ساحر لدھیانوی کا یہ ایک مصرعہ پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ ایک مصور تصویر بناتا ہے، محبت سے، یقین سے، اسے لگتا ہے اس نے دنیا کی سب سے مکمل چیز بنا دی ہے۔ لیکن جب وقت گزرتا ہے اور حالات بدلتے ہیں تو اسی کلاکار کو لگتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی تصویر اتنی مکمل نہیں تھی جتنا اس نے سوچا تھا اور پھر وہ خود ہی اپنے اس شاہکار پر دوبارہ غور کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی قصہ بیسویں صدی کے آخر میں ایک امریکی دانشور اور مشہور مفکر کے ساتھ ہوا جنہوں نے بیسویں صدی کے آخری برسوں میں دنیا کے سیاسی مستقبل کے بارے میں تاریخ کے خاتمے کا ایک ایسا دعویٰ کیا تھا جس نے انہیں راتوں رات پوری دنیا میں مشہور کر دیا لیکن آنے والے برسوں میں دنیا کے بدلتے حالات نے انہیں اپنے شاہکار پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا۔

یہ بات انیس سو نواسی کی ہے جب دنیا میں بہت بڑے اور غیر معمولی واقعات ہو رہے تھے اور مشرقی یورپ میں پرانے سخت سرکاری نظام ایک ایک کر کے گر رہے تھے۔ اسی سال نومبر کے مہینے میں جرمنی کے شہر برلن کی وہ مشہور دیوار بھی لوگوں نے ہتھوڑے مار کر توڑ دی جو تقریباً تین دہائیوں سے پورے جرمنی اور یورپ کو دو حصوں میں تقسیم کیے ہوئے تھی۔ اسی انیس سو نواسی میں امریکی مفکر اور دانشور فرانسس فوکویاما نے لکھا کہ ہم تاریخ کے خاتمے کو دیکھ رہے ہیں۔ فوکویاما کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو جاپان سے ہجرت کر کے امریکہ آیا تھا، وہ خود شکاگو میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبرل جمہوریتیں کمیونزم پر غالب آ گئی ہیں اور یہ انسانی نظریاتی ارتقا کے اختتام کو ظاہر کرتا ہے۔ بعد میں یہی نے دعویٰ ایک مشہور کتاب کی شکل میں سامنے آیا جس کا نام تھا، دی اینڈ آف هسٹری اینڈ دی لاسٹ مین۔ فوکویاما نے کہا کہ بادشاہتیں اپنی کشش کھو چکی ہیں، ہٹلر اور مسولینی کا فاشزم دوسری عالمی جنگ میں دفن ہو چکا ہے اور سوویت کمیونزم بھی بکھر رہا ہے ۔

فوکویاما نے کہا اب پیچھے کیا بچا ہے؟ بس ایک ہی نظام، لبرل جمہوریت۔ جس میں لوگ ووٹ ڈال کر اپنا حکمران چنتے ہیں، حکومت بھی قانون کے نیچے ہوتی ہے، اور کاروبار کھلے بازار میں چلتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ دنیا میں خبریں یا لڑائیاں ختم ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب تھا کہ اب کوئی نیا بڑا نظریہ نہیں آئے گا جو جمہوریت کو ہرا سکے۔ اس نے اپنی بات دو بنیادوں پر رکھی۔ پہلی بنیاد سائنس ہے۔ آج ہر ملک کو ایک جیسی چیزیں چاہییں، کارخانہ چاہیے، اسکول چاہیے، گاڑی چاہیے، موبائل چاہیے، سڑک چاہیے۔ اس لیے ترقی کا راستہ سب کو آخر میں ایک ہی جگہ لے آتا ہے۔ دوسری بنیاد انسان کی عزت ہے۔ انسان کو صرف روٹی کپڑا مکان نہیں چاہیے، اسے یہ بھی چاہیے کہ اسے برابر کا انسان سمجھا جائے، اس کی بات سنی جائے۔ اور یہ عزت اسے صرف جمہوریت میں ملتی ہے۔ یہ بات سن کر دنیا نے فوراً تالیاں بجائیں، لیکن پھر تاریخ نے آگے بڑھ کر اس کا جواب دینا شروع کر دیا۔

پہلا جواب گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو آیا۔ امریکہ پر حملہ ہوا تو دنیا کو سمجھ آ گئی کہ مذہب اور یقین ابھی مرے نہیں ہیں اور لوگ آج بھی اپنے عقیدے کے لیے جان دینے اور لینے کو تیار ہیں۔ پھر دو ہزار آٹھ میں رہی سہی کسر نکل گئی جب امریکہ اور یورپ کے بڑے بڑے بینک بیٹھ گئے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے، تو لوگوں کا فری مارکیٹ سے بھی اعتبار اٹھ گیا۔ دوسرا جواب روس سے آیا، پہلے اس نے جمہوریت کا لباس پہنا، پھر اسی لباس میں سے پوٹن باہر آ گیا۔ وہاں ووٹ بھی ڈلتے ہیں، عدالتیں بھی ہیں، لیکن آخری فیصلہ ایک ہی آدمی کرتا ہے۔ تیسرا اور سب سے بڑا جواب چین نے دیا، فوکویاما سمجھتا تھا کہ پیسہ آئے گا تو لوگ آزادی بھی مانگیں گے لیکن چین نے کہا نہیں، ہم نے جمہوریت نہیں دی، ایک ہی پارٹی رکھی اور لوگوں کو سیاسی آزادی کم دی، پھر بھی ہم بہت آگے نکل گئے۔ پچھلے تیس چالیس سال میں وہاں کروڑوں لوگ غربت سے نکل آئے، بڑے بڑے کارخانے بنے، لمبی چوڑی سڑکیں بنیں اور ہر طرف الیکٹرک گاڑیوں اور تیز ٹرینوں کا جال بچھ گیا۔

یہی وہ مقام تھا جہاں خود فوکویاما نے اپنے شاہکار پر نظرثانی کی اور کھلے دل سے تسلیم کیا کہ انہوں نے انسانی شناخت اور عزت کے عنصر کو بہت کم اہمیت دی تھی۔ انہوں نے اپنی بعد کی کتابوں میں لکھا کہ جدید سیاست کا ایک بڑا محرک انسان کی عزت اور شناخت کی خواہش ہے اور جب لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ معاشرے میں ان کی شناخت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو وہ غصے میں آ کر ایسے رہنماؤں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو ان کے جذبات اور احساسِ محرومی کی بات کریں۔ اسی پس منظر میں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے عوامی مقبولیت رکھنے والے رہنما کا اقتدار میں آنا اور دنیا کے دیگر ملکوں میں سخت گیر لیڈروں کا آگے بڑھنا اسی غصے اور شناخت کی سیاست کا نتیجہ ہے کیونکہ لوگ ہمیشہ معاشی پروگرام دیکھ کر ووٹ نہیں دیتے بلکہ اکثر وہ اس شخص کو چنتے ہیں جو انہیں تحفظ اور شناخت کا احساس دلاتا ہے۔

آج وہی فوکویاما ستینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے، وہی جس نے سرد جنگ ختم ہونے پر اعلان کیا تھا کہ بس اب جمہوریت جیت گئی ہے۔ اب وہ کہتا ہے کہ سرد جنگ کا ختم ہو جانا اس بات کی گارنٹی نہیں تھا کہ مغربی جمہوریت ہمیشہ سلامت رہے گی۔ وہ آج بھی یہی مانتا ہے کہ جمہوریت انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، لیکن اب وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ خود بخود چلتی رہے گی۔ جمہوریت کوئی خودکار مشین نہیں، اسے مضبوط ادارے چاہییں، ایماندار عدالتیں چاہییں، دیانتدار افسر چاہییں اور ایک ایسا بیانیہ یعنی سب کو جوڑنے والی سوچ ضروری ہے جو ملک کے تمام مختلف لوگوں کو آپس میں متحد رکھ سکے۔

حال ہی میں جب ایران پر حملے کی بات ہوئی تو فوکویاما نے کہا کہ امریکہ کا یہ مطالبہ کہ ایران بس ہتھیار ڈال دے، یہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ ایران کی فوج ایک کمانڈر کے نیچے نہیں چلتی، وہاں طاقت کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے، اور حکومت بھی اپنی بندوق کے زور پر ہی کھڑی ہے، اس لیے وہ اتنی آسانی سے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔ یہی وہ سبق ہے جو اس پوری داستان سے نکلتا ہے، تاریخ ختم نہیں ہوئی، تاریخ کبھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ انسان صرف معاشی مفاد کا نام نہیں، وہ احساس کا، شناخت کا، عزت کا، عقیدے اور جذبات کا بھی مجموعہ ہے، جب تک یہ باقی ہے تب تک کوئی نظام آخری نہیں ہوگا، کوئی دیوار آخری نہیں گرے گی، اور کوئی مصور اپنے شاہکار کو حتمی نہیں کہہ سکے گا۔ اور شاید اسی لیے تاریخ کا سفر آج بھی جاری ہے اور انسان اب بھی اپنے لیے ایک بہتر معاشرے کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے