6 جون عالمی یومِ ماحولیات World Environment Day
تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ
دنیا میں انسانی ترقی، صنعتی انقلاب اور جدید سہولیات نے جہاں انسان کو بے شمار آسائشیں فراہم کیں وہاں ماحولیات کو شدید نقصان بھی پہنچایا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی، پانی کی کمی، صنعتی دھواں، پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال اور موسمیاتی تبدیلیاں آج پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ انہی خطرات کے پیشِ نظر ہر سال 6 جون کو “عالمی یومِ ماحولیات” منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کے لوگوں میں ماحول کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔ دنیا بھر میں 6 جون کو اس حوالے سے تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔
اس حوالہ سے چند ایک حقائق آپ کے ذوق مطالعہ کرتے ہیں۔ عالمی یومِ ماحولیات کا آغاز 1972 میں ہوا جب اقوام متحدہ نے سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں ایک تاریخی کانفرنس منعقد کی۔ یہ کانفرنس انسانی ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے دنیا کی پہلی بڑی عالمی کانفرنس تھی۔
اس کانفرنس میں دنیا بھر کے ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر ماحول کو محفوظ نہ بنایا گیا تو انسانی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔ اسی کانفرنس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے 6 جون کو “World Environment Day” قرار دیا۔
1973 میں پہلی مرتبہ عالمی یومِ ماحولیات منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے عوام، حکومتوں اور اداروں کو ماحولیاتی تحفظ کی جانب متوجہ کرنا تھا۔
ماحولیات سے مراد وہ تمام قدرتی عناصر ہیں جو انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہیں، مثلاً ہوا، پانی، زمین، درخت، جنگلات، جانور اور درجہ حرارت شامل ہیں۔ اگر ان عناصر میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو انسانی صحت، زراعت، معیشت اور زندگی کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔
ماحولیات کو درپیش بڑے خطرات کونسے ہیں آئیں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ فیکٹریوں، گاڑیوں اور صنعتی دھوئیں سے فضا آلودہ ہو رہی ہے جس سے سانس اور دل کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ کیمیائی فضلہ اور گندا پانی دریاؤں اور نہروں میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ درختوں کی کمی سے بارشوں کا نظام متاثر ہوتا ہے اور گرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور سیلاب و خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پلاسٹک زمین اور سمندری حیات کے لیے خطرناک بن چکا ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان دنیا میں آلودگی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات یہاں زیادہ نمایاں ہیں۔
پاکستان کو درپیش ماحولیاتی مسائل میں پانی کی قلت سرفہرست ہے۔ زیر زمین پانی کڑوا اور تیزی سے کم ہو رہا ہے جبکہ دریاؤں میں پانی کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ ہم زمین کو ریٹرن نہیں دے رہے۔ ہمارے ہاں پانی مسلسل ضائع ہو رہا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
پاکستان میں جنگلات کا رقبہ عالمی معیار سے بہت کم ہے اور ہم آج بھی اس کمی کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔
خصوصاً پنجاب کے شہروں شیخوپورہ، لاہور، فیصل آباد اور دیگر صنعتی علاقوں میں سموگ انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب نے ثابت کیا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے کتنا بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
پاکستان میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت سابق حکومت کی جانب سے درخت لگانے کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے جن کا مقصد جنگلات میں اضافہ کرنا تھا۔ ہر سال سرکاری و نجی ادارے شجرکاری مہم چلاتے ہیں۔ کئی شہروں میں پلاسٹک بیگز کے استعمال کو محدود کیا گیا۔ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے قوانین اور ادارے قائم کیے گئے ہیں جیسے پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (Pak-EPA) اور صوبائی ماحولیات محکمے۔ اسکولوں، کالجوں، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ کا شعور بیدار کیا جا رہا ہے۔
اسلام نے بھی ماحول کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ زمین پر فساد پھیلانے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ قرار دیا اور پانی ضائع کرنے سے منع فرمایا۔ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ اسلام صفائی، شجرکاری اور ماحول کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔
زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، پانی ضائع نہ کریں، پلاسٹک کا کم استعمال کریں، صفائی کا خیال رکھیں، فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں اور اپنے اردگرد لوگوں میں شعور بیدار کریں۔
عالمی یومِ ماحولیات محض ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ انسانیت کو اپنی بقا کا پیغام دیتا ہے۔ اگر ہم نے ماحول کے تحفظ پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں صاف پانی، خالص ہوا اور محفوظ زمین سے محروم ہو جائیں گی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کو اجتماعی طور پر عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ زمین کو رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف ہماری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے، اور اس امانت کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں تمام اداروں کی کارکردگی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالہ سے کوئی اتنی اچھی نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکومتی سطح پر عدم دلچسپی اور فنڈ کے ضیاع اور نااہل اداروں کے سربراہان ہیں۔ پچھلے 78 سالوں سے کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ ہر آنے والی حکومت جانے والی حکومت کو قصوروار قرار دیتی ہے جو کہ آنے والی نسلوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
وطن عزیز کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت نہری نظام دیا ہے اور خوبصورت موسم دیئے ہیں اور اس کے برعکس اتنے ہی نااہل حکمران، سیاستدان اور اداروں کے سربراہان دیے ہیں جن کا مقصد ترقی نہیں تنزلی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔
بہرحال امید کا دامن تھامے رکھیں، اب نہیں تو کب؟

