رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) ایڈیشنل سیشن جج رینالہ خورد شبریز اختر راجہ نے قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزم کو جرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ملزم کی جانب سے نوجوان قانون دان چوہدری فہیم افضل ایڈووکیٹ نے عدالت میں ٹھوس اور مدلل دلائل پیش کیے، جس سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی رینالہ خورد میں پولیس کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 1029/25 زیر دفعہ 302 ت پ درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم قاری (ف) نے علی شیر نامی شخص کے بیٹے کو پیٹ میں ٹانگ مار کر قتل کیا ہے۔ اس واقعے کو سوشل میڈیا پر بھی کافی وائرل کیا گیا تھا اور بعد ازاں عدالت میں پرائیویٹ استغاثہ بھی دائر کیا گیا، جس کا ٹرائل طویل عرصہ عدالت میں چلا۔
کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل چوہدری فہیم افضل ایڈووکیٹ نے جوونائل جسٹس سسٹم ایکٹ اور میڈیکل شہادت کے اصولوں کو انتہائی مہارت سے عدالت کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے اپنے غیر متزلزل دلائل کے ذریعے استغاثہ کی فرضی کہانی کو بے نقاب کر دیا اور مخالف پبلک پراسیکیوٹر اور سینئر قانون دان کے موقف کو قانونی طور پر مسترد کر دیا۔ عدالت نے دفاع کے دلائل کو درست تسلیم کرتے ہوئے ملزم کو مقدمہ سے باعزت بری کر دیا۔
چوہدری فہیم افضل ایڈووکیٹ اس سے قبل دیوانی مقدمات میں اپنی قابلیت منوا چکے ہیں اور اپنے پہلے ہی بڑے فوجداری ٹرائل میں اس شاندار کامیابی سے انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے چوہدری فہیم افضل کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی طرح حق اور سچ کی بنیاد پر مظلوموں کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔