واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جوہری جنگ رکوانے کا کریڈٹ لے لیا۔ امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک آٹھ بڑی جنگیں ختم کروائیں جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ بھی شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم پاکستان نے ان سے کہا کہ انہوں نے اس جنگ کو رکوا کر 35 ملین لوگوں کی جانیں بچائیں۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کی جنگ ختم کرانے، یرغمالیوں کی واپسی اور اسرائیل، ایران، کانگو اور روانڈا کے درمیان تنازعات حل کرانے کا تذکرہ بھی کیا، جبکہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔

صدر ٹرمپ نے اپنی معاشی پالیسیوں اور ٹیرف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرف کی بدولت کئی ممالک کے ساتھ ڈیلز ممکن ہوئیں اور عالمی سطح پر جنگیں ختم کرانے میں مدد ملی۔ انہوں نے امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف مخالف حکمنامے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں امریکی سرحدیں محفوظ ترین ہو چکی ہیں اور گزشتہ نو ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی شخص ملک میں داخل نہیں ہو سکا۔ معیشت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افراط زر میں غیر معمولی کمی آئی ہے، انڈوں کی قیمتیں 60 فیصد تک کم ہوئیں اور ایک سال کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بائیڈن دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ تباہی کے دہانے سے نکل کر اب دنیا کا پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔

خطاب کے دوران ڈیموکریٹک رکن کانگریس آل گرین نے صدر ٹرمپ کے خلاف احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں فوری طور پر ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ٹیکس کٹوتیوں کا ذکر کرتے ہوئے ریپبلکنز کی تعریف کی اور ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ وہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا چاہتے تھے۔ اس اہم خطاب کے موقع پر صدر ٹرمپ کے اہل خانہ، کابینہ کے ارکان اور کانگریس کی کثیر تعداد ایوان میں موجود تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے