ضلع کرم میں 4G انٹرنیٹ کی طویل بندش: اکیسویں صدی میں ڈیجیٹل بلیک آؤٹ سے مفلوج ہوتی زندگی

ضلع کرم میں 4G بندش، ڈیجیٹل بلیک آؤٹ سے زندگی مفلوج
تحریر: میر افضل خان طوری

پاکستان کے خوبصورت اور جغرافیائی لحاظ سے اہم سرحدی ضلع کرم کے عوام ان دنوں ایک عجیب اور کٹھن امتحان سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں دنیا 5G ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سمارٹ گورننس کے دور میں داخل ہو چکی ہے، وہاں ضلع کرم کی لاکھوں کی آبادی بنیادی 4G انٹرنیٹ سہولت سے بھی محروم ہے۔ سکیورٹی اور انتظامی خدشات کے نام پر مہینوں سے جاری اس ڈیجیٹل بلیک آؤٹ نے علاقے کے تعلیمی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کا سب سے دردناک پہلو یہاں کی طالب علم برادری پر اثرات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ بی ایس، ماسٹرز اور ریسرچ اسکالرز کے لیے اسائنمنٹس اور مقالہ جات کی تیاری تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، قومی و بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے داخلہ فارمز جمع کرانے اور آن لائن انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے طلبہ کو پہاڑی راستوں پر جا کر یا دوسرے اضلاع کا سفر کر کے سگنل ڈھونڈنا پڑتے ہیں۔ متعدد طلبہ وقت پر فارم جمع نہ کرانے کے باعث اپنے قیمتی تعلیمی سال سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

عصرِ حاضر میں کے پی کے کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوانوں نے آن لائن کام (فری لانسنگ، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ) کے ذریعے روزگار کمانا شروع کیا تھا۔ تاہم، مسلسل انٹرنیٹ معطلی نے ان کے بین الاقوامی کلائنٹس اور پروجیکٹس کو ختم کر دیا ہے۔ فری لانسرز کا کہنا ہے کہ "کلائنٹ کو کام بروقت نہ ملنے پر وہ ہمارا اکاؤنٹ بلاک کر دیتے ہیں، جس سے برسوں کی محنت لمحوں میں ضائع ہو جاتی ہے۔”

دوسری جانب، علاقے کا کاروباری طبقہ بھی نالاں ہے۔ آن لائن بینکنگ، ایزی پیسہ، جاز کیش اور اے ٹی ایم سروسز میں بار بار کے رخنے کی وجہ سے کاروباری لین دین انتہائی محدود ہو چکا ہے۔

ضلع کرم کے ہزاروں افراد روزگار کے سلسلے میں خلیجی ممالک، یورپ اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں مقیم ہیں۔ 4G سروسز نہ ہونے کے باعث اپنے پیاروں سے رابطہ قائم رکھنا ایک عذاب بن چکا ہے۔ کسی ایمرجنسی، بیماری یا حادثے کی صورت میں بروقت اطلاع نہ ملنے سے خاندان شدید ذہنی اذیت اور تشویش کا شکار رہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ انٹرنیٹ تک رسائی کو انسان کا بنیادی حق قرار دے چکی ہے۔ بے شک امن و امان کا قیام اور سکیورٹی ریاست کی اولین ترجیح ہوتی ہے، لیکن پوری آبادی کو اجتماعی طور پر ڈیجیٹل سہولیات سے محروم رکھنا کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ جدت کے اس دور میں بغیر انٹرنیٹ کے شہریوں سے ترقی کا معمار بننے کی توقع رکھنا ممکن نہیں ہے۔

ضلع کرم کے سیاسی و سماجی حلقوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی نے وفاقی حکومت، وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی، اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے زوردار مطالبہ کیا ہے کہ جدید سکیورٹی ٹولز اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شرپسند عناصر پر نظر رکھی جائے، لیکن عام شہریوں اور طالب علموں کے لیے 4G سروسز کو بلا تاخیر بحال کیا جائے تاکہ علاقے میں زندگی کا پٹری پر لوٹنا ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے